Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال کے سنگور میں ۲۰؍ سال بعد ٹاٹا کی واپسی کا امکان

Updated: July 13, 2026, 10:54 AM IST | Agency | Kolkata

مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد سنگور میں ٹاٹا گروپ کی واپسی کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ریاستی وزیر صنعت تاپس رائے نے بتایا ہے کہ ٹاٹا گروپ کے ساتھ ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ اگر ٹاٹا واپسی پر آمادہ ہوتا ہے تو حکومت وہاں کسی دوسری کمپنی کو نہیں لائے گی۔

Shobhindu Adhikari.Photo:INN
شوبھندو ادھیکاری۔ تصویر:آئی این این
مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد سنگور میں ٹاٹا گروپ کی واپسی کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ریاستی وزیر صنعت تاپس رائے نے  بتایا ہے کہ ٹاٹا گروپ کے ساتھ ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ اگر ٹاٹا واپسی پر آمادہ ہوتا ہے تو حکومت وہاں کسی دوسری کمپنی کو نہیں لائے گی۔ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری خود اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔
 
 
واضح رہے کہ ۲۰۰۶ءمیں نینو منصوبے کیلئے اپنی زمین دینے والے کسانوں کیلئےیہ خواب اب بھی ادھورا ہے۔ ٹاٹا کے سنگور چھوڑنے کے بعد ہزاروں خاندان معاشی اور ذہنی بحران کا شکار ہو گئے۔ تقریباً۳؍ ہزار ۶۰۰؍خاندانوں کو آج بھی ریاستی حکومت ہر ماہ ۲؍ ہزار روپے اور۱۶؍کلو چاول فراہم کرتی ہے، لیکن کئی خاندان اب تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکے۔ 
  انیدھ داس روزگار کیلئے کولکاتا جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فیکٹری قائم ہو جاتی تو شاید  انہیں روزانہ شہر جا کر ملازمت نہ کرنی پڑتی۔ ان کے والد نے بھی زمین دی تھی۔  وہ بتاتے ہیں کہ معاوضہ ملنے کے بعد وہ دبئی چلے گئے تھے جبکہ ان کے دونوں بھائیوں کا انتخاب ٹاٹا نے مکینیکل انجینئرنگ کی تربیت کیلئے کیا تھا۔اتراکھنڈ میں ٹریننگ شروع ہو چکی تھی اور ملازمت کی امید بھی تھی لیکن منصوبہ بند ہونے کے ساتھ ہی تمام خواب ٹوٹ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آج  بھی ٹاٹا یا کوئی دوسری بڑی کمپنی آتی ہے تو وہ دوبارہ زمین دینے کیلئے تیار ہیں۔
زمین کے حصول کی حمایت میں قائم سنگور شلپ وکاس سمیتی کے صدر ڈاکٹر اُدیان داس کا کہنا ہے کہ ۲۰۰۶ء کے بعد سے زمین کی قیمتوں میں تقریباً ۱۵؍  گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق سڑک کنارے واقع ایک بیگھا زمین جس کی قیمت اس وقت تقریباً ۳؍ لاکھ روپے تھی، اب ایک کروڑ روپے فی بیگھا تک پہنچ چکی ہے۔ایسی صورت میں اگر ٹاٹا  کمپنی دوبارہ آتی ہے تو صرف معاوضے کی مد میں ہی ایک ہزار۳۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرنا پڑ سکتا ہے، اسی لیے ان کے خیال میں ٹاٹا کی واپسی آسان نہیں ہوگی۔
 
 
اس وقت سنگور کی وہ۹۹۷؍ایکڑ زمین، جہاں کبھی نینو منصوبہ شروع کیا گیا تھا، بڑی حد تک جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ کبھی یہ علاقہ مغربی بنگال کی سب سے زرخیز زرعی زمینوں میں شمار ہوتا تھا، جہاں دھان، آلو اور دیگر فصلیں کاشت کی جاتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنگور میں ہر شخص ٹاٹا کی واپسی کا حامی نہیں ہے۔ سنگور کرشی رکشا سمیتی کے سینئر رکن پربیر پاترا کا کہنا ہے کہ ان کی مخالفت صنعتوں سے نہ پہلے تھی اور نہ آج ہے۔ ان کے مطابق ان کی جدوجہد صرف تین فصلی زرخیز زرعی زمین کو بچانے کی تھی، اور اگر دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو وہ پھر تحریک چلائیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ صنعتوں کیلئے کم زر خیز زمین  کا انتخاب کیا جانا چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK