جی ۲۰؍ ممالک کی افغانستان کو امداد مگر طالبان کے ہاتھ نہیں

Updated: October 14, 2021, 8:41 AM IST | Washington

انتونیو غطریس کی اپیل کے بعد دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں والے ممالک افغان عوام کی مدد کرنے پر آمادہ۔ فی الحال طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا کوئی امکان نہیں

Italian Prime Minister Mario Draghi presides over the meeting (Photo: Agency)
اٹلی کے وزیر اعظم ماریو ڈراگی نے اجلاس کی صدارت کی ( تصویر: ایجنسی)

دنیا کی ۲۰؍ بڑی معیشتوں کے سربراہان حکومت اور وزرائے خارجہ نے منگل کو ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران افغانستان میں مزید سرمایہ فراہم کرنے پر اتقاق کیا۔تاہم طالبان کو فنڈز دینے کے بجائے دیگر طریقوں پر غور کرنے کی بات کہی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے انتباہ دیا تھا کہ جنگ سے متاثرہ ملک افغانستان کی معیشت، جو اب طالبان کے کنٹرول میں ہے، انسانی تباہی کے دہانے پر پہنچ رہی ہے۔
 اس عالمی کانفرنس کی میزبانی اٹلی کے وزیر اعظم ماریو ڈراگی نے کی۔ غطریس  نے جی ۲۰؍ کے رہنماؤں کے افغانستان سے متعلق ایک غیر معمولی اجلاس سے چند گھنٹے قبل نیویارک میں کہا تھا کہ اگر ہم نے اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے افغان باشندوں کی مدد نہ کی تو جلد ہی اس کی بھاری قیمت نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا کو چکانی پڑے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے نیویارک میں کہا کہ افغان شہریوں کے پاس کھانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ ان کے پاس روزگار نہیں ہے، انہیں اپنے حقوق کا تحفظ حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ افغان باشندے اپنے ملک سے فرار ہو کر دوسرے علاقوں کی طرف جائیں گے۔ موجودہ صورتحال میں وہاں غیر قانونی منشیات، مجرمانہ سرگرمیاں بڑھنے اور دہشت گرد نیٹ ورک مضبوط ہونے کےخطرے میں اضافہ ہو گا۔
 اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے انتباہ کا جی ۲۰؍ کانفرنس پر فوری اثر ہوا اور اٹلی کے وزیر خارجہ لوئجی ڈی ماریو نے کہا کہ افغان ریاست کو ڈوبنے سے بچانے کیلئے اقدامات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔کانفرنس  میں شریک لیڈروں نے اس بات پر زور دیا کہ افغان آبادی کیلئے فوری انسانی امداد کیسے فراہم کی جائے اس کے علاوہ ان لیڈروں  نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور لوگوں کو ملک کے اندر اور باہر نقل و حرکت کی آزادی کیلئے طالبان کو قائل کرنے بھی بات کی۔اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمارکے مطابق صرف اس سال کے دوران لڑائیوں کے باعث بے گھر ہونے والے افغان باشندوں کی تعداد ۵۰؍ لاکھ سے زیادہ ہے۔ تقریبا ً ایک کروڑ ۷۰؍ لاکھ افغان باشندوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور ۵؍ سال سے کم عمر کے بچوں کی نصف تعداد کو نہ تو مناسب غذا میسر ہے اور نہ ہی کرونا وائرس کی وبا کے دوران علاج معالجے کی سہولت۔
افغانستان کی امداد بند اور فنڈز منجمد ہیں
 اگست کے وسط میں طالبان کے افغانستان کا اقتدار حاصل کرنے  سے پہلے افغانستان کے سرکاری اخراجات کا تین چوتھائی حصہ دوسرے ممالک اور عالمی امدادی ادارے پورا کرتے تھے۔عالمی امداد افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار کا ۴۳؍ فیصد تھی اور یہ سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری تھا۔لیکن عالمی سطح پر طالبان حکومت تسلیم نہ کئے جانے کے نتیجے میں افغانستان کے بین الاقوامی فنڈ منجمد ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد امریکی بینکوں میں موجود افغانستان کے ساڑھے ۹؍ارب ڈالر کے ذخائر منجمد کر دیئے ہیں۔جب تک فنڈ اور ذخائر جاری نہیں کئے جاتے، افغانستان کیلئے خود کو معاشی تباہی سے بچانا ممکن نہیں ہو گا۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور آزاد تجزیہ کاروں نے ایک بڑے انسانی بحران کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دہائیوں سے غربت اور جنگ میں گھرے ہوئے افغان باشندوں کے مصائب اور مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔
افغانستان میں ایک بڑے انسانی بحران کا خطرہ
اٹلی کے وزیراعظم نے کانفرنس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو میں کہا  کہ سب سے پہلے ہمیں افغانستان میں انسانی بحران پر قابو پانے کیلئے کام کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معیشت کو تباہی سے بچانے اور بینکنگ نظام کو زندہ رکھنے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افغان پناہ گزینوں کی امداد سمیت اس بات کو یقینی بنانے پر بات چیت کی کہ افغانستان کو دوبارہ بین الاقوامی دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی لیڈروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں لوگوں بالخصوص خواتین کے حقوق اور تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔اٹلی کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں طالبان کو فنڈ دیئے بغیر ریاست کو سرمایہ فراہم کرنے کا طریقہ کار ڈھونڈنا ہو گا، تاکہ اسے معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے، کیونکہ اس حکومت میں شامل ۱۷؍ افراد کے نام دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل ہیں۔

taliban Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK