Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں بچے منصوبہ بندی کے تحت بھوکے رکھے جارہے: عالمی انسانی تنظیم کی مذمت

Updated: June 09, 2026, 7:03 PM IST | Gaza

عالمی انسانی تنظیم نے غزہ کی امداد کی ترسیل بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں منصوبہ بندی کے تحت بچوں کو بھوکا رکھا جا رہا ہے، ساتھ ہی اسرائیل کے غزہ میں داخلے کے راستے بند کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امداد کو سیاست کا ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔

Photo: X
تصویر: ایکس
بچوں کے لیے کام کرنے والی عالمی انسانی تنظیم ’’سیو دی چلڈرن‘‘ نے اسرائیل کے غزہ میں داخلے کے راستے بند کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امداد کو سیاست کا ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔تنظیم کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے علاقائی ڈائریکٹر احمد الہندوی نے ایک بیان میں کہا، ’’امداد کوئی سیاسی آلہ نہیں ہے اور اسے اس طرح ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ غزہ میں بچوں کی بقا اور ضروریات کا دارومدار کہیں اور ہونے والے فضائی حملوں پر نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’تقریباً تین سالوں سے غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے اتنے شدید ہیں کہ وہاں کچھ بھی اگ نہیں سکتا، اور لوگ سرحد پار سے آنے والی محدود امداد پر منحصر ہو چکے ہیں ، وہ امداد جو کبھی کافی نہیں تھی اور اب مکمل طور پر پہنچ سے باہر ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں بچے خوراک، صاف پانی، دوا، ایندھن، پناہ گاہ کا سامان، اور وہ سامان حاصل کرنے کے لیے کراسنگز پر منحصر ہیں جواسپتالوں، پانی کے نظام اور دیگر ضروری خدمات کو چلانے کے لیے درکار ہیں۔ یہ سب کچھ اب خطرے میں ہے۔‘‘ 
 
 
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے علاقائی رابطہ دفتر نے اتوار کو ایران کے میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کریم ابو سالم (کرم شالوم) اور رفح کراسنگ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پیر کو کہا گیا کہ منگل کو کراسنگ دوبارہ کھول دی جائیں گی۔بیان میں مزید کہا گیا، غزہ میں بچے پہلے ہی منصوبہ بندی کے تحت بھوکے رکھے جا چکے ہیں۔ انہیں اب پانی، دوا، پناہ گاہ اور بقا کے لیے ضروری دیگر اشیا سے بھی محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسرائیلی حکام کو فوری طور پر یہ کراسنگیں دوبارہ کھولنی چاہئے، ناکہ بندی ختم کرنی چاہیے، اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی محفوظ ترسیل میں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔
 
 
’‘بیان میں عالمی برادری سے اپیلکی گئی ہے  کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالے۔علاوہ ازیں غزہ میں فلسطینی بچوں اور ان کے خاندانوں کے حقوق بار بار پامال کیے گئے ہیں ، وہ حقوق جو بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہیں۔ عالمی برادری نے شاید غزہ سے آنکھیں پھیر لی ہوں، لیکن تاریخ کی نظر تم پر ہوگی۔‘‘ وا ضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے لے کر اب تک غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں کم از کم۲۱؍ہزار ۲۸۹؍ فلسطینی بچے مارے جا چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK