Updated: October 20, 2026, 12:14 PM IST
| Gaza
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران اپنا گھر اور کمہار کا کارخانہ کھونے والے جعفر عطاء اللہ نے مقامی مٹی، راکھ اور دیگر دستیاب مواد سے والدین کے لیے گنبد نما مکان تعمیر کیا۔ سیمنٹ اور فولاد کی شدید قلت کے باعث اس منفرد کوشش نے توجہ حاصل کی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ایسے تجرباتی مکانات غزہ کی وسیع رہائشی تباہی اور تعمیرِ نو کی ضروریات کا مکمل متبادل نہیں ہوسکتے۔
جعفر عطاء اللہ۔ تصویر: ایکس
فلسطینی علاقے غزہ میں جنگ کے دوران گھر تباہ ہوجانے کے بعد ایک کمہار نے اپنے روایتی ہنر کو خاندان کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنانے کا ذریعہ بنا لیا۔ جعفر عطاء اللہ نے تقریباً ۲؍ سال خیمے میں گزارنے کے بعد مقامی مٹی سے اینٹیں تیار کیں اور اپنے والدین کے لیے گنبد نما مکان تعمیر کیا۔ تعمیراتی سامان کی شدید قلت کے درمیان ان کی یہ کوشش اس جدوجہد کی مثال بن گئی ہے جس کے ذریعے غزہ کے رہائشی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے اور مقامی وسائل سے زندگی دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، عطاء اللہ نے اس منصوبے کے لیے تقریباً ۱۵؍ افراد کی مدد حاصل کی۔ ان لوگوں نے مقامی مٹی جمع کی، مختلف آمیزوں سے تجربات کیے اور بالآخر ایسی اینٹیں تیار کرنے کی کوشش کی جن سے گنبد نما ڈھانچہ بنایا جاسکے۔
عطاء اللہ شمالی غزہ میں اپنے خاندان کے ساتھ مٹی کے برتن بنانے کا کام کرتے تھے۔ ان کا خاندان پیالے، گلدان اور دیگر برتن تیار کرکے روزگار کماتا تھا، لیکن جنگ کے دوران ان کا گھر اور کمہار کا کارخانہ تباہ ہوگیا۔ نقل مکانی اور خیمے میں زندگی گزارنے کے بعد انہوں نے اسی مٹی کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جس سے ان کا خاندان نسلوں سے برتن بناتا آیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب مٹی سے روزمرہ استعمال کی اشیا کے بجائے رہنے کے لیے چھت تیار کی جارہی تھی۔ اس تعمیر کے لیے مٹی میں پانی، راکھ اور شیشے کا پسا ہوا سفوف ملایا گیا۔ مختلف آمیزوں کو آزمانے اور ابتدائی نمونوں پر کام کرنے کے بعد ٹیم نے اینٹیں تیار کیں۔ عطاء اللہ نے انہیں موسم کے اثرات سے بچانے کے لیے ایک واٹر پروف تہہ بھی بنانے کی کوشش کی۔ گنبد کی ساخت ان کے خاندان کے روایتی مٹی کے تنوروں سے متاثر تھی، جنہیں وہ برسوں سے تیار کرتے رہے تھے۔ اس بار وہی ہنر ایک ایسے ڈھانچے میں استعمال ہوا جس میں لوگ رہ سکیں۔
عطاء اللہ کے مطابق، خیمے میں زندگی گزارنے کے مقابلے میں مٹی کے مکان میں کچھ عملی سہولتیں میسر آتی ہیں۔ خیموں کے اندر گرمی شدید ہوجاتی ہے اور خوراک، خصوصاً تازہ سبزیوں کو محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ مٹی کا ڈھانچہ نسبتاً بہتر پناہ فراہم کرسکتا ہے اور کھانے پینے کی اشیا رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم، ان خصوصیات کا مطلب یہ نہیں کہ مکان کو ہر قسم کے موسم، سیلاب یا دیگر خطرات کے خلاف مکمل طور پر محفوظ قرار دیا جاسکتا ہے۔ غزہ میں تعمیرِ نو کا سب سے بڑا مسئلہ سیمنٹ، فولاد اور دیگر بنیادی تعمیراتی سامان کی محدود دستیابی ہے۔ اسرائیلی حکام بعض تعمیراتی مواد کو دوہرے استعمال کی اشیا قرار دیتے ہیں اور خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں حماس فوجی مقاصد، خصوصاً سرنگیں بنانے، کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔ دوسری جانب انسانی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے عام شہریوں کے لیے گھر تعمیر کرنا، تباہ شدہ عمارتوں کی مرمت اور عارضی پناہ گاہوں کو بہتر بنانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

تصویر: ایکس
نارویجن ریفیوجی کونسل نے ۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو خبردار کیا کہ تعمیراتی اور پناہ گاہوں سے متعلق ضروری سامان کی محدود آمد کے باعث غزہ میں تقریباً ۵ء۱۶؍ لاکھ افراد کو ایک اور موسمِ سرما خستہ حال خیموں یا جنگ سے متاثرہ عمارتوں میں گزارنا پڑسکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق، تقریباً ۲؍ لاکھ ۹۴؍ ہزار خاندانوں کو موسمِ سرما میں پناہ گاہوں کی امداد درکار ہوگی، لیکن دستیاب یا وعدہ شدہ مالی وسائل ضرورت سے کہیں کم ہیں۔غزہ میں عطاء اللہ جیسے افراد اکیلے نہیں جو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ فلسطینی بہنوں طلا اور فرح موسیٰ نے بھی ملبے کے پسا ہوا کنکریٹ، مٹی، راکھ اور شیشے کے سفوف سے اینٹیں بنانے کے تجربات کیے۔ ان کی کوششوں کا مقصد ایسے مقامی مواد کو استعمال میں لانا تھا جو عام حالات میں تعمیراتی سامان کی جگہ نہیں لے سکتا، لیکن موجودہ بحران میں کچھ کام آسکتا ہے۔ مئی ۲۰۲۶ء میں ان بہنوں کو سوئزرلینڈ میں قائم ارتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے نوجوانوں کے اختراعی منصوبوں کے لیے ایوارڈ بھی ملا۔
تاہم، تعمیراتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ملبے سے تیار کردہ اینٹوں اور مٹی کے گنبدوں کو روایتی تعمیراتی مواد کا مکمل متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کی مضبوطی، پانی برداشت کرنے کی صلاحیت، چھت کے بوجھ اور زلزلے یا دیگر خطرات کے خلاف مزاحمت کی جانچ ضروری ہے۔ اسی طرح تباہ شدہ عمارتوں سے نکالے گئے فولادی سریوں کو دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے ان کی حالت اور مضبوطی کا جائزہ لینا بھی اہم ہے۔ کسی ڈھانچے کا بظاہر مضبوط دکھائی دینا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہر طرح کے خطرے سے محفوظ ہے۔ عطاء اللہ نے تعمیر کے مراحل کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو دنیا کے مختلف حصوں سے کمہاروں اور مٹی کے برتن بنانے والے گروہوں نے دلچسپی ظاہر کی۔ ان کی کوشش اب اپنے والدین کے لیے پناہ گاہ بنانے سے آگے بڑھ کر دوسرے خاندانوں تک یہ طریقہ پہنچانے کی صورت اختیار کررہی ہے۔ وہ اپنی اہلیہ کے لیے بھی مٹی کا ایک اور مکان بنانے پر کام کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو شوق سے آزمائیں ‘، عراقچی کا ٹرمپ کو چیلنج
غزہ میں جنگ کے بعد تعمیرِ نو کا مسئلہ محض اینٹوں اور چھتوں کی کمی تک محدود نہیں۔ تباہ شدہ رہائشی عمارتوں، اسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں، پانی اور نکاسیٔ آب کے نظام کو بحال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل، محفوظ حالات اور تکنیکی مہارت درکار ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، غزہ کی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان وسیع پیمانے پر ہے، جبکہ لاکھوں افراد اب بھی خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔ جعفر عطاء اللہ کی کوشش اس تباہی کا حل نہیں، لیکن یہ دکھاتی ہے کہ جب روایتی تعمیراتی سامان دستیاب نہ ہو تو لوگ اپنے ہنر اور مقامی وسائل سے فوری ضروریات پوری کرنے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ ان کے خاندان کے لیے مٹی کبھی روزگار کا ذریعہ تھی؛ جنگ کے بعد وہی مٹی رہائش کی امید بن گئی۔ تاہم، غزہ میں لاکھوں افراد کو محفوظ گھر فراہم کرنے کے لیے انفرادی کوششوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو، تعمیراتی سامان کی دستیابی اور بنیادی سہولتوں کی بحالی ناگزیر ہے۔