• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو شوق سے آزمائیں ‘، عراقچی کا ٹرمپ کو چیلنج

Updated: October 19, 2026, 4:03 PM IST | Tehran

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں تہران نے ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف سخت انتباہ دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیتن یاہو پر امریکہ کو نئی جنگ میں دھکیلنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں اسرائیل کو تباہ کن نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔

Abbas Araghchi and Donald Trump. Photo: INN
عباس عراقچی اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کی رات اسرائیلی وزیراعظم بنجامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ قید سے بچنے کیلئے امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک اور جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار بھی کیا کہ وہ دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے گریز کرے۔ عراقچی نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’نیتن یاہو جیل سے بچنےکیلئے امریکہ کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم پر الزام لگایا کہ وہ اس کے نتائج کی پروا کئے بغیر اسرائیل اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ 
انہوں نے مزید کہا، ’’پچھلی مرتبہ جب آپ نے ’کام تمام کرنے‘ کی کوشش کی تھی تو ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر ابھرا تھا۔ کیا آپ دوبارہ اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں ؟ تو تشریف لائیے۔ لیکن محتاط رہیے، ہمارے بھی کچھ کام ابھی ادھورے ہیں۔ ‘‘عراقچی کا یہ بیان اتوار کے روز ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ نے اسرائیل میں ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل نیتن یاہو کے ساتھ اپنی شراکت داری کی تعریف کی اور ایران کے خلاف دونوں ممالک کی مشترکہ کارروائیوں کا ذکر کیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی عوام نے کسی دوسرےلیڈر کو منتخب کیا تو ممکن ہے کہ امریکہ کو خود یہ کام انجام دینا پڑے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانسیسی اپنے ہی ملک کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں: میکرون کا احتجاج پر اظہارِ شرمندگی

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’اگر اسرائیل کے پاس غلط لیڈر ہوا، یعنی بی بی کے علاوہ کوئی اور، تو امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے گا، اور میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ‘‘ یہاں ’’بی بی‘‘ نیتن یاہو کا عرفی نام ہے۔ 
اگر توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو اسرائیل کو ’جلتی ہوئی زمین‘ میں تبدیل کردیں گے: پاسداران انقلاب کی دھمکی
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو اسرائیل کو تباہ کن جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ مقبوضہ علاقوں کو ہمیشہ کیلئے ’’جھلسی ہوئی زمین‘‘ میں تبدیل کردیا جائے گا اور وہاں کے باشندوں کو مصر کے جزیرہ نما سینائی میں نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے حوالے سے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا انگلش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان شائع کیا، جس میں کہا گیا، ’’ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی جارحیت کے نتیجے میں، اگرچہ ہمارے نوجوان سائنسداں اسے فوری طور پر دوبارہ بحال کردیں گے، مقبوضہ علاقے ہمیشہ کیلئے جھلسی ہوئی زمین بن جائیں گے اور وہاں کے غاصبوں کو جزیرہ نما سینائی منتقل ہونا پڑے گا۔ دنیا دیکھے گی کہ کیا ہوتا ہے!‘‘

یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کا احتجاج پُرتشدد، سرکاری عمارتوں کو نقصان، ۱۲۰۰؍ سے زائد گرفتار

بیان میں اسرائیل کے کسی مخصوص ہدف کی نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ ہی جوابی کارروائی کیلئے کوئی وقت مقرر کیا گیا۔ یہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملے کے خلاف ایک انتباہ تھا، نہ کہ اس بات کی تصدیق کہ ایسا کوئی حملہ ہوچکا ہے۔ اس سے قبل خلیجی ممالک میں تیل اور توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے، جن میں قطر کا راس لفان مائع قدرتی گیس کمپلیکس اور سعودی عرب کے پائپ لائن نظام سے متعلق تنصیبات شامل ہیں۔ اس تنازع نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے اور آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ یہ ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تیل کی فراہمی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ 
خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس کی۱۳؍ اکتوبر کی ایک رپورٹ میں آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہاز رانی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان خطرات میں جہازوں پر حملے اور ایران کی جانب سے سمندری آمدورفت محدود کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ حسین محبی کا یہ بیان ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی سمیت دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی شائع کیا ہے۔ واضح رہے کہ جزیرہ نما سینائی مصر کا حصہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK