Updated: May 06, 2026, 8:25 AM IST
| Gaza
غزہ شہر کے مشرق میں واقع میدان فلسطین کے چوک میں متعدد زخمیوں اور ان کے اہل خانہ نے ’علاج میرا حق ہے‘ کے عنوان سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس کا مقصد سرحدوں کی مسلسل بندش اور طبی معاملات میں رکاوٹوں کے پیش نظر علاج کیلئے بیرون ملک سفر کی اجازت حاصل کرنا تھا۔
وہیل چیئرپر بیٹھے یہ زخمی افرادمکمل علاج کیلئے بیرو ن ملک جانا چاہتےہیں
غزہ شہر کے مشرق میں واقع میدان فلسطین کے چوک میں متعدد زخمیوں اور ان کے اہل خانہ نے ’علاج میرا حق ہے‘ کے عنوان سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس کا مقصد سرحدوں کی مسلسل بندش اور طبی معاملات میں رکاوٹوں کے پیش نظر علاج کیلئے بیرون ملک سفر کی اجازت حاصل کرنا تھا۔مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ علاج ایک حق ہے کوئی احسان نہیں، ان بینرز پر ہمارے زخمیوں کو بچاؤ، اب علاج مکمل کرنے میں ہماری مدد کرو، ہم علاج کے اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں اور سفر کرنا میرا حق ہے، سرحدیں کھولو جیسے مطالبات درج تھے، یہ انسانی منظر نامہ ان زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تکلیفوں کی عکاسی کر رہا تھا جو علاج میں تاخیر کے باعث اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔زخمیوں نے اپنی زخمی ہونے سے پہلے اور بعد کی تصاویر بھی تھام رکھی تھیں تاکہ دنیا کو ان سنگین تبدیلیوں کا پیغام دیا جا سکے جو ان کی زندگیوں میں رونما ہو چکی ہیں۔
۲؍ سال سے زائد عرصے سے بستر علالت پر پڑے زخمی محمد ابو ناصر نے کہا کہ اس احتجاج کا مقصد عالمی ادارہ صحت اور میڈیکل ٹرانسفر کی فائل سے وابستہ بین الاقوامی اداروں تک زخمیوں کی آواز پہنچانا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تکلیفیں مسلسل جاری ہیں اور ہم روزانہ بار بار موت کا سامنا کرتے ہیں لیکن کوئی ہمیں محسوس کرنے والا نہیں۔ابو ناصر نے واضح کیا کہ انہیں علاج کیلئے سرکاری طبی ریفرل مل چکا ہے لیکن وہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مجھے مزید کاغذات کی ضرورت نہیں بلکہ باہر جانے اور علاج کروانے کے ایک موقع کی ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ پٹی کے اندر طبی وسائل کی شدید قلت کے باعث ان کی صحت تیزی سے گر رہی ہے جس سے ان کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔ایک فلسطینی خاتون شيرين المش راوی نے اپنی۱۸؍ سالہ بیٹی بتول کی زخمی ہونے سے قبل اور بعد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی۱۷؍ مئی۲۰۲۵ء کو الجلاء شاہراہ پر ہونے والی بمباری کی زد میں آ کر اس وقت زخمی ہوئی تھی جب وہ اپنی کلاس میں جا رہی تھی، اس وقت سے اس کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ان کی آواز روہانسی ہو گئی اور انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی میٹرک (توجیہی) کے امتحان اور ڈاکٹر بننے کے خواب سے محروم ہو گئی ہے، انہوں نے بیٹی کے علاج کے لیے بیرون ملک سفر کی اجازت مانگتے ہوئے کہا کہ ہم اس کے ادنیٰ ترین حق کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کا غزہ سے باہر علاج ہو، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی بیٹی جو فلسطین کے پھولوں میں سے ایک پھول تھی آج معذور ہو کر اپنی زندگی بچانے کے ایک موقع کی منتظر ہے۔اسی طرح۳۵؍ سالہ زخمی خاتون کفاح الفخوری نے بتایا کہ جون۲۰۲۵ء میں قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں انہوں نے اپنی بائیں ٹانگ کھو دی تھی جس نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ہڈی کاٹنے اور مسلسل گلنے سڑنے کے عمل کو روکنے کیلئے ایک پیچیدہ جراحی کی فوری ضرورت ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنی ہڈی کا پانچ سینٹی میٹر حصہ کھو دیتی ہیں جس سے ان کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الفخوری نے امید ظاہر کی کہ وہ بیرون ملک اپنا علاج مکمل کر سکیں گی اور مصنوعی ٹانگ لگوا کر دوبارہ چلنے کے قابل ہو جائیں گی، انہوں نے تصدیق کی کہ ان کے پاس سرکاری میڈیکل ریفرل موجود ہے لیکن وہ اب بھی سفر کی منظوری کی منتظر ہیں۔