Updated: May 05, 2026, 10:06 PM IST
| Jerusalem
اسرائیل کے ۱۳؍ حکام، جن میں تین وزراء بھی شامل ہیں، نے مسجد اقصیٰ میں ۱۵؍ مئی کو داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے، جو یروشلم ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ تاریخ نقبہ کی برسی سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جس سے صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ فلسطینیوں نے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
مقبوضہ مشرقی یروشلم میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسرائیل کے ۱۳؍ اعلیٰ حکام، جن میں تین وزراء بھی شامل ہیں، نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ۱۵؍ مئی کو داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ دن یروشلم ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے، جسے اسرائیل ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد شہر کے ’’دوبارہ اتحاد‘‘ کی علامت سمجھتا ہے۔ تاہم یہی تاریخ فلسطینیوں کے لیے نقبہ کی برسی بھی ہے، جو ۱۹۴۸ء میں بڑے پیمانے پر بے دخلی اور تباہی کی یاد دلاتی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، جن وزراء نے یہ مطالبہ کیا ہے ان میں شلومو کرحی، میکی ظہر اور امیشائے شکلی شامل ہیں۔ انہوں نے درخواست کی ہے کہ یہودیوں کو اس دن مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی تعمیرِ نو تعطل کا شکار، بڑھتے اخراجات اور اسرائیلی پابندیاں بڑی رکاوٹ
رپورٹس کے مطابق، یہ معاملہ بنجامن نیتن یاہو کے فیصلے پر منحصر ہے، جبکہ سیکوریٹی ادارے اس پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے مواقع پر بڑی تعداد میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ یاد رہے کہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے دنیا کی تیسری مقدس ترین جگہ ہے، جبکہ یہودی اسے ’’ٹیمپل ماؤنٹ‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسے اپنے تاریخی مندروں کا مقام قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد مذہبی دعوے اس مقام کو انتہائی حساس بنا دیتے ہیں۔
فلسطینی حکام اور تنظیموں نے اس مطالبے کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف مقدس مقام کے تقدس کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اس کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی ہیں۔ ۲۰۰۳ء کے بعد سے، اسرائیلی پولیس غیر مسلم افراد کو مخصوص اوقات میں احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے، تاہم جمعہ اور ہفتہ کو یہ داخلہ محدود رہتا ہے۔ اس پالیسی پر بھی کئی بار تنازعہ پیدا ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینیوں نے اسرائیلی قبضے کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر ’’جارحیت‘‘ سے خبردار کیا
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سال صورتحال زیادہ حساس ہے کیونکہ یروشلم ڈے اور نقبہ ایک ہی دن آ رہے ہیں، جو سیاسی اور جذباتی طور پر دونوں فریقوں کے لیے اہم ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت اسرائیل کے اس علاقے پر قبضے کو تسلیم نہیں کرتی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس مطالبے کو منظور کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔