Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطینی فوٹوگرافر ساحر الغرہ نے غزہ کوریج کیلئے ۲۰۲۶ء کا’’ پلٹزر‘‘ جیتا

Updated: May 05, 2026, 10:05 PM IST | Gaza

فلسطینی فوٹوگرافر ساحر الغرہ نے غزہ کوریج کیلئے ۲۰۲۶ء کا’’ پلٹزر‘‘ انعام جیتا، انہیں غزہ میں انسانی بحران کی دردناک اور حساس تصویری دستاویز ات کے طور پر جانا جاتا ہے۔

Palestinian photographer Saher Alghorra. Photo: INN.
فلسطینی فوٹوگرافر ساحر الغرہ۔ تصویر: آئی این این

فلسطینی فوٹوگرافر ساحر الغرہ کو غزہ میں انسانی بحران کی ’’خوفناک اور حساس‘‘ دستاویزات کے سبب پہچانا گیا۔ انہوں نے بریکنگ نیوز فوٹوگرافی کے زمرے میں۲۰۲۶ء کا’’ پلٹزر‘‘ انعام حاصل کیا۔واضح رہے کہ الغرہ، نیویارک ٹائمز کے لیے کام کرنے والے فوٹوگرافر ہیں، اور ان کی تصویری سیریز کو پلٹزر ایڈمنسٹریٹر مارجوری ملر نے ’’خوفناک‘‘ اور ’’حساس‘‘ قرار دیا۔ ان تصاویر میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں بھوک اور تباہی کو دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی افواج یونان کے ساحل پر کشتیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں: صمود فلوٹیلا

ملر نے بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے باوجود آزاد صحافت کی اہمیت پر زور دیا۔ پلٹزر کے علاوہ، الغرہ نے فرانس میں گزشتہ اکتوبر کو۳۲؍ویں پری بائے کیلواڈوس-نارمنڈی میں جنگی فوٹوگرافی کا پہلا انعام بھی جیتا۔ ان کی ایوارڈ یافتہ رپورٹ ’’غزہ میں پھنسے ہوئے: آگ اور قحط کے درمیان‘‘ نے محاصرے کے تحت زندگی کی حقیقت اور بمباری اور بھوک کے درمیان پھنسے شہریوں کے المیے کو اجاگر کیا۔
 اس کے علاوہ تحقیقاتی اور قومی رپورٹنگریوٹرز نے سرکاری اثر و رسوخ کے استعمال کی مبینہ دستاویزات پر قومی رپورٹنگ کے زمرے میں انعام جیتا۔ اس کے علاوہ، ریوٹرز کے جیف ہاروٹز اور اینجن تھام نے بیت رپورٹنگ کا انعام جیتا کیونکہ انہوں نے میٹا کے صارفین کو ’’اسکینڈلز اور اے آئی ہیرا پھیری‘‘ سے دوچار کرنے میں کردار کو بے نقاب کیا۔اس کے علاوہ پبلک سروس کے زمرے میں، واشنگٹن پوسٹ نے وفاقی اداروں کی ’’افراتفری پر مبنی تنظیم نو‘‘کو دکھانے پر انعام حاصل کیا۔ایک خصوصی حوالہ میامی ہیرالڈ کی جولی کے براؤن کو  جیفری ایپسٹین کے ذریعے کیے جانے والے منظم استحصال کو بے نقاب کرنے پر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کی تعمیرِ نو تعطل کا شکار، بڑھتے اخراجات اور اسرائیلی پابندیاں بڑی رکاوٹ

واضح رہے کہ ساحر ان چنندہ فوٹو گرفروں میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے غزہ کے حالات کی براہ راست تصویر کشی کی، اس حقیقت کے باوجود کہ اسرائیل چن چن کر ایسے صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو قتل کر رہا ہے ، جو اس کی جارحیت اورظلم کو دنیا کی نظروں کے سامنے لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان حالات میں اپنے پیشے اور ذمہ داری سے مکمل طور پر انصاف کرنے والے ساحر ہی اس انعام کے حقدار تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK