ہندوستان نے اکتوبر ۲۰۲۶ء میں تقریباً۱ء۷؍ لاکھ بیرل یومیہ ڈیزل برآمد کیا، جو گزشتہ ۱۳؍ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہندوستان امریکہ کے بعد سمندری راستے سے ڈیزل برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai
ہندوستان نے اکتوبر ۲۰۲۶ء میں تقریباً۱ء۷؍ لاکھ بیرل یومیہ ڈیزل برآمد کیا، جو گزشتہ ۱۳؍ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہندوستان امریکہ کے بعد سمندری راستے سے ڈیزل برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔
عالمی منڈی میں ڈیزل کی شدید قلت اور قیمتوں میں اضافے نے ہندوستانی آئل ریفائنریوں کے لیے کاروبار کے نئے مواقع پیدا کردیئے ہیں۔ عالمی سطح پر ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کے درمیان بھارتی ریفائنریاں اپنی پیداواری صلاحیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ڈیزل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کررہی ہیں۔ ہندوستان نے اکتوبر ۲۰۲۶ء میں تقریباً۱ء۷؍ لاکھ بیرل یومیہ ڈیزل برآمد کیا، جو گزشتہ ۱۳؍ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہندوستان امریکہ کے بعد سمندری راستے سے ڈیزل برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ عالمی منڈی میں ڈیزل کی زیادہ قیمتوں اور بہتر ریفائننگ منافع نے ہندوستانی کمپنیوں کو اپنی پیداوار بڑھانے اور یورپ سمیت مختلف بین الاقوامی منڈیوں میں ایندھن کی فراہمی کا موقع فراہم کیا ہے۔
عالمی منڈی میں ڈیزل کی فراہمی متاثر ہونے کی بڑی وجوہات میں مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور روس یوکرین جنگ شامل ہیں۔ روس دنیا کے بڑے ڈیزل برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے، لیکن یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں روسی ریفائنریوں اور بندرگاہوں کو نقصان پہنچنے کے بعد اس کی ڈیزل برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ روس نے جولائی میں ڈیزل کی برآمدات بھی روک دی تھیں، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی پر مزید دباؤ پڑا۔
اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث خام تیل اور تیار شدہ ایندھن کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ یورپ میں ڈیزل کے ذخائر میں کمی اور عالمی سطح پر رسد کی مشکلات نے خریداروں کو متبادل سپلائرز کی تلاش پر مجبور کردیا ہے۔ ایسے حالات میں ہندوستان اپنی وسیع ریفائننگ صلاحیت اور مضبوط برآمدی نظام کی مدد سے عالمی منڈی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ہندوستان کی ڈیزل برآمدات میں نجی شعبے کی بڑی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز سب سے آگے ہے۔ اکتوبر کے دوران کمپنی نے تقریباً ۴۷ء۵؍لاکھ بیرل یومیہ ڈیزل برآمد کیا، جو ہندوستان کی مجموعی ڈیزل برآمدات کا تقریباً ۷۸؍ فیصد ہے۔ گجرات کے جام نگر میں واقع ریلائنس کا ریفائننگ کمپلیکس دنیا کی سب سے بڑی سنگل لوکیشن ریفائننگ تنصیبات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی مجموعی ریفائننگ صلاحیت ۸۲ء۶؍ کروڑ ٹن سالانہ ہے، جس میں سے ۵۲ء۳؍ کروڑ ٹن سالانہ صلاحیت برآمدات کے لیے مختص ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’مرزا پور: دی مووی‘‘ او ٹی ٹی پر ریلیز، شائقین کے لیے توسیع شدہ ورژن بھی پیش
سرکاری اور نجی شعبے کی دیگر کمپنیوں نے بھی اپنی برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔ اکتوبر میں انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی ) نے تقریباً ۵۳؍ ہزار بیرل یومیہ، نایارا انرجی نے تقریباً ۴۰؍ ہزار بیرل یومیہ، منگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکلز لمیٹڈ نے تقریباً ۳۸؍ ہزار بیرل یومیہ اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن نے تقریباً ۲۶؍ ہزار بیرل یومیہ ڈیزل برآمد کیا۔
ہندوستانی ڈیزل کی مانگ صرف ایشیائی منڈیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپ، افریقہ اور دیگر خطوں کے ممالک بھی ہندوستانی ایندھن خرید رہے ہیں۔ اکتوبر کے دوران ہندوستان سے ڈیزل حاصل کرنے والے اہم ممالک میں ٹوگو، ترکی، اسپین اور جنوبی افریقہ شامل رہے۔ اس کے علاوہ برازیل، موزمبیق، ارجنٹائنا، رومانیہ، بلجیم اور نیدرلینڈز بھی ہندوستانی ڈیزل کے خریداروں میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:زیوریو۲؍ نومبر کو عالمی نمبر ایک بن جائیں گے
یورپی ممالک کے لیے ہندوستانی ریفائنریوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ وہاں مقامی ریفائننگ اور روسی سپلائی میں کمی کے باعث ڈیزل کی دستیابی پر دباؤ ہے۔ ہندوستانی ریفائنریاں اپنی بڑی پیداواری صلاحیت اور مختلف ممالک سے خام تیل حاصل کرنے کی سہولت کے باعث عالمی منڈی کی ضرورت کے مطابق ایندھن فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ہندوستان کی سرکاری تیل کمپنیوں نے بھی عالمی طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ انڈین آئل، ہندوستان پیٹرولیم ، ہندوستان پیٹرولیم اور منگلور ریفائنری سمیت دیگر ادارے نئی تنصیبات اور موجودہ ریفائنریوں کی توسیع کے ذریعے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کریں گے۔