۲۰۱۴ء میں سڑک حادثہ میں ران کی ہڈی فریکچر ہونے کی وجہ سے نوجوان کا آپریشن کیا گیا لیکن چند روز بعدہی اس کا انتقال ہوگیا تھا۔
ڈاکٹر۔ تصویر:آئی این این
گوونڈی کے ۲۳؍ سالہ سلمان بابر شاہ کا ۲۰۱۴ء میں موٹر سائیکل حادثہ میں زخمی ہونے پر پیر کا آپریشن کیا گیا تھا لیکن چند روز بعدہی اس کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس کی والدہ کی ۱۲؍ برس کی قانونی جنگ کے بعد شیواجی نگر پولیس نے ۵؍ ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
واضح رہے کہ یہ ایف آئی آر بامبے ہائی کورٹ میں سلمان کی والدہ نسیم بانو بابر شاہ (۵۷) کی پٹیشن پر سماعت کے دوران دی گئی ہدایت کی بنیاد پر درج کی گئی ہے اور جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمل کھاتا نے جوائنٹ پولیس کمشنر (نظم و نسق) کو مختلف ہدایات دی ہیں جن میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ تاریخ، ۲۷؍ مارچ، تک عدالت کو بتائیں کہ متوفی کے پسماندگان کو معاوضہ کون ادا کرے گا۔
ایف آئی آر کے مطابق فلموں اور ٹی وی سیریل میں جونیئر آرٹسٹ کے طور پر کام کرنے والا سلمان ۸؍ اپریل ۲۰۱۴ء کو ’سپنے سہانے لڑکپن کے‘ نامی سیریل میں اداکاری کرنے کے بعد ممبئی- احمدآباد ہائی وے پر اپنی موٹر سائیکل میں پیٹرول بھرواکر پیٹرول پمپ سے باہر نکل رہا تھا تبھی ایک ٹیمپو نے اسے ٹکر ماردی تھی۔ اس حادثہ میں اس کی داہنی ران کی ہڈی فریکچر ہوگئی تھی۔ سلمان کو اس کے دوست امن سنگھ نے وسئی کے ایک اسپتال میں داخل کروایا تھا جہاں ڈاکٹروں نے اس کے پیر میں فریکچر ہونے کی وجہ سے آپریشن کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
نسیم بانو نے اپنے گھر کے سامنے ڈاکٹر عبدالملک کو حادثہ اور آپریشن کے تعلق سے بتایا تو انہوں نے سلمان کو شیواجی نگر میں واقع ملینیم اسپتال میں داخل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس پر عمل کیا گیا اور ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ اس کی ران کی ہڈی میں فریکچر ہے جو آپریشن سے ٹھیک ہوجائے گا اور اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس کے بعد ۹؍ اپریل کو اس کاآپریشن کیا گیا۔ نسیم بانو کے مطابق ۳؍ بجے سلمان کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا اور رات ۸؍ بجے نکال کر وارڈ میں لایا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ جس وقت اس کا آپریشن کیا گیا، اس وقت آدھے گھنٹے تک اسپتال میں بجلی نہیں تھی اس لئے انہیں یقین ہے کہ ان کے بیٹے کا آپریشن موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں کیا گیا تھا۔
نسیم بانو نے اسپتال پر علاج میں دیگر کئی لاپروائیوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ شکایت کے مطابق اسپتال کا عملہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے اہلِ خانہ ہی اسپتال میں سلمان کی رفع حاجت کی ضروریات پوری کرنے اور صاف صفائی کا کام کیا کرتے تھے۔۱۴؍ اپریل کو سلمان کی حالت کافی بگڑ گئی تھی جس پر اسے چمبور کے سائی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔تاہم ۱۷؍ اپریل کو اس کا انتقال ہوگیا۔ڈاکٹروں نے رپورٹ میں اس کی موت کی وجہ سانس لینے میں شدید دشواری اور دیگر وجوہات بتائی تھیں۔
بیٹے کی موت کے بعد سے نسیم بانو ڈاکٹروں کے خلاف شکایت درج کروانے کی کوشش کررہی تھیں لیکن پولیس نے شکایت درج نہیں کی جس پر وہ دسمبر۲۰۱۵ء میں ہائی کورٹ سے رجوع ہوئیں۔ تب سے جاری قانونی جنگ کی بنیاد پر شیواجی نگر پولیس نے ۲۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو سلمان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نیاز احمد خان، ڈاکٹر امتیاز احمد خان، ڈاکٹر اومیش پمپڑے، ڈاکٹر خالد اور ڈاکٹر امیت شوبھاوت کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔