• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوونڈی :خواجہ اجمیریؒ کے بینر کی آڑ میں ماحول خراب کرنے کی کوشش

Updated: January 24, 2026, 11:28 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Govandi

۲۰؍ برس سے زائد عرصے سے لگائے جارہے بینر کو پولیس نے بی ایم سی کے ذریعے ہٹادیا۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد۲۶؍ جنوری کے بعد لگانے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

Police personnel and local officials during the removal of banners in Govindi. Picture: INN
گوونڈی میں بینر نکالنے کے وقت پولیس اہلکار اور مقامی ذمہ داران۔ تصویر: آئی این این
یہاں مہاڈا نٹور پاریکھ کمپاؤنڈ کے پاس ۲۰؍ برس سے زائد عرصے سے خواجہ غریب نوازؒ کے آستانے کے لگائے جارہے بینر کی آڑ میں ماحول خراب کرنے کی سازش  کی گئی جسے مقامی ذمہ دار اشخاص نے ناکام  بنادیا۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد پولیس نے بی ایم سی کے ذریعے بینر ہٹادیا اور ۲۷؍ جنوری کو دوبارہ لگانے کی یقین دہانی کروائی۔
مسلمانوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپ لیا
یہاں لگایا گیا یہ بینر ہرسال خواجہ اجمیریؒ کی چھٹی کے موقع پر تبدیل کیا جاتا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو خواہ اس کا تعلق برادران وطن سے ہو، کبھی اعتراض نہیں کیا گیا تھا لیکن اب قریب میں  سائی مندر کا بھنڈارا اور ۲۶؍  جنوری کے موقع  پرچم کشائی کے نام پر سینئر انسپکٹر نے شکایت موصول ہونے کا حوالہ دے کر اسے اتروا دیا۔ اس تعلق سے کریٹ سومیا کو بھی مدعو کیا گیا تھا مگر مسلمانوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپ لیا اور حالات خراب ہونے سے بچالیا۔
ذمہ داران کا کہنا ہے کہ جیسے ہم نے پولیس کے ساتھ تعاون کیا ہے اسی طرح ۲۶؍جنوری کے بعد پولیس ہمارے ساتھ تعاون کرے تاکہ ۲۷؍جنوری کو آسانی سے بینر دوبارہ لگادیا جائے۔
یاد رہے کہ مقامی برادران وطن نے بھی یہ بیان دیا  ہے کہ اس بینر سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہے  اورنہ ہی کسی قسم کا اعتراض ہے، آخر مندر والا کیوں پریشان کرتا ہے۔ ہم سب یہاں مل جل کر رہتے ہیں۔
ہواکیاتھا؟
اس معاملے میں پیش پیش رہنے والے محمد جاوید نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہاں ۲۰۰۸ء میں رہنے کے لئے آئے جبکہ اس سے کئی سال قبل سے ہی حضرت کے آستانے کا بینر یہاں لگایا جاتا ہے۔ چونکہ یہ جگہ مہاڈا اور ایم ایم آر ڈی اے کی ہے اور مہاڈا کی جانب سے کسی بھی چیز کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ بینر کے لئے فریم لگا ہوا ہے ،اس کے اندر بینر لگایا جاتا ہے ۔ اس سے کسی کو کوئی دقت نہیں ہوتی ہے۔ اس دفعہ پولیس کی جانب سے شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا گیا کہ بینر زیادہ اونچائی پر لگا ہوا ہے اور یوم جمہوریہ کے موقع پرچم کشائی کے لئے لگایا گیا پائپ اس سے نیچے ہے جس سے پرچم چھپ جاتا ہے۔ اس لئے بینر اتار دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس کا رویہ جانبدارانہ تھا لیکن ہم سب نے اس لئے تعاون کیا کہ ہم نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ کچھ لوگ اس کی آڑ میں ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں پھر یہ کہ بھنڈارا کرنے کا حوالہ دیا گیا ۔حالانکہ اس بینر سے بھنڈارے کا کوئی تعلق نہیں ، نہ ہی اس سے کوئی رکاوٹ آرہی تھی  پھر بھی امن وامان قائم رکھنے کے لئے زیادہ مداخلت نہیں کی گئی۔ اتنا ہی نہیں ایک سال قبل ہم نے محض اللہ اور محمد لکھوا دیا تھا تو اس پر شیواجی نگر پولیس نے کیس درج کیا تھا جبکہ چار بائی۸؍ کا مندر اب ۳۵؍ بائی ۴۰؍  کا بن چکا ہے مگر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ اسی طرح بینر کے معاملے میں بھی متعدد مرتبہ پولیس اسٹیشن بلایا گیا ہے۔ محمد جاوید کے مطابق پولیس کی جانب سے یہ یقین دلایا گیا ہے کہ۲۷؍جنوری کو پہلے کی طرح بینر لگالیجئے گا، ہمیں امید ہے کہ پولیس پورا تعاون کرے گی اور جو یقین دہانی کرائی گئی ہے ، اس پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ اگر عمل نہ کیا گیا یا کوئی اور مسئلہ پیدا کیا گیا تو ہم سب اسے دیکھیں گے پھر اسی حساب سے آگے کے لئے کام کیا جائے گا۔
پولیس نگرانی کررہی ہے
مقامی پولیس کے مطابق شکایت ملنے کے بعد کارروائی کی گئی۔ حالات پوری طرح معمول پر ہیں، پولیس کی جانب سے نگرانی کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK