Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت عوام کو قسطوں میں لوٹ رہی ہے: ملکارجن کھرگے

Updated: May 24, 2026, 12:59 AM IST | New Delhi

کانگریس صدر نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر روزانہ ایک ہزار کروڑ کا ٹیکس وصول کرنے کے باوجود بی جے پی کی ’بھوک‘ ختم نہیں ہوئی،حکومت عوام کو دھیما زہر دے رہی ہے: کیجریوال

A motorcyclist looks at the meter at a petrol pump in Siliguri, West Bengal. (PTI)
مغربی بنگال کے سلی گوڑی کے ایک پیٹرول پمپ پرموٹرسائیکل سوار کی نظر میٹر پر ہے۔(پی ٹی آئی)

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بالخصوص پیٹرول ،ڈیزل ، ایل پی جی اور سی این جی کی قیمتوںکے حوالے سے اپوزیشن پارٹیوںنے حکومت پر سخت تنقید کی ہے ۔عام آدمی پارٹی(آپ) کے سربراہ اروندکیجریوال اورکانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے اورعوام کو ہونے والی شدید پریشانیوں کی دُہائی دی ہے۔ 
 کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کے بعد مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے حکومت پر عوام سے ’قسطوں میں لوٹ مار‘ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کھرگے نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت۱۰۰؍ روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے اور حکومت عوام پر معاشی بوجھ بڑھا رہی ہے۔
 سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس صدر نے لکھا ہے کہ ’’پیٹرول اب ہوا۱۰۰؍ روپے پار، اب کی بار… عوام کی کمائی پر قسطوں میں لوٹ مار!‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر روزانہ تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کا مرکزی ٹیکس وصول کرنے کے باوجود بی جے پی حکومت کی ’بھوک‘ ختم نہیں ہوئی۔ جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم تھیں، تب حکومت نے اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا، عوام سے بھاری رقم وصول کی۔ پھر جب بحران آیا تو حکومت انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہی، اور انتخابات کے بعد عوام کو قربانی کا درس دینے لگی۔
 کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا کہ ’’مہنگائی مین مودی نے پیٹرول -ڈیزل پر۹ ؍ دن میں ۵؍ روپے بڑھا دیے ۔ پارٹی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’مودی کو بس تیل کمپنیوں کے فائدے کی فکر ہے۔ ایک طرف جہاں دنیا بھر کی حکومتیں اپنی عوام کو راحت دے رہی ہیں، وہیں مودی حکومت عوام کو ہی لوٹنے میں مصروف ہے۔ کبھی تو عوام کی بھلائی کے بارے میں سوچ لو، کب تک سرمایہ داروں کا فائدہ کراتے رہوگے؟‘‘کانگریس نے ایک دیگر ’ایکس‘ پوسٹ میں سی این جی کی قیمت میں ہونے والے اضافے پر لکھا کہ ’’اب مہنگائی مین مودی نے سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ سی این جی گزشتہ۹؍دنوں میں۴؍ روپے مہنگی ہوئی ہے۔ نریندر مودی عوام کو کھل کر لوٹ رہے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے امیر دوستوں کی تجوریاں بھرنی ہیں۔‘‘
  عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے گزشتہ دس پندرہ دنوں میں تیسری بار پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھانے پر مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ہم وطنوں کو دھیما زہر دے رہی ہے۔کیجریوال نےایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا’’آج پھر سے حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ گزشتہ۱۵-۱۰؍ دنوں میں تیسری بار قیمتیں بڑھائی گئی ہیں ۔ ان دنو ںمیں پیٹرول اور ڈیزل کے دام تقریباً۴؍ سے۵؍ روپے فی لیٹر بڑھ گئے ہیں۔ گیس سلنڈر کے دام بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگوں کیلئے گھر چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ لوگ اس قدر ڈرے اور صدمے میں ہیں کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ حکومت آنے والے دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اور کتنا بڑھانے والی ہے؟ چاروں طرف افواہیں پھیلی ہیں کہ ابھی تو بہت بڑھے گا، پیٹرول۱۵۰؍ روپے تک جائے گا، پتا نہیں کتنا جائے گا؟ حکومت سے پوچھو تو حکومت کچھ نہیں بتا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ملک میں نہ صرف دام بڑھ رہے ہیں، بلکہ ملک بھر میں پیٹرول، گیس اور ڈیزل کی قلت ہو گئی ہے۔ گجرات سے ایسی تصویریں آ رہی ہیں کہ کس طرح سے پیٹرول پمپ پر ٹریکٹروں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، ڈیزل نہیں مل رہا ہے۔ کس طرح سے جگہ جگہ لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی مچی ہوئی ہے۔ اتر پردیش کے گورکھپور میں لوگ رات کو سڑک پر سو رہے ہیں۔ اپنا گیس سلنڈر بھروانے کیلئے لائنیں لگا لگا کر، مچھردانی لگا کر سڑک پر رات رات بھر سو رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے اکولہ اور بلڈانہ میں پیٹرول اور ڈیزل کیلئےہنگامہ برپا ہے ۔ ملک کے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت بتائے تو سہی کہ آنے والے دنوں میںکیا ہونے والا ہے۔’آپ‘ لیڈر نے کہا’’روس اور ایران دونوں کہہ رہے ہیں کہ ہم ہندوستان کو سستے داموں پر تیل اور گیس دینے کیلئے تیار ہیں لیکن ہندوستانی حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم نہیں لیں گے۔ کیوں نہیں لیں گے؟ میں ہم وطنوں سے جاننا چاہتا ہوں کہ   حکومت ہند کو روس اور ایران سے سستے داموں پر تیل اور گیس لینی چاہئے یا نہیں ؟ یہ ملک ہمارا ہے، ان لیڈروں کا نہیں ہے، کسی پارٹی کا نہیں ہے۔ ہم۱۴۰؍ کروڑ لوگوں کا ملک ہیں۔ مل کر آواز اٹھائیں گے تو حکومت کو اس ملک کے لوگوں کی سننی پڑے گی۔‘‘

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK