• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوئٹے مالا: اپنی ہی آخری رسومات کے دوران تابوت سے اٹھ بیٹھی ۱۵؍ سالہ لڑکی

Updated: October 13, 2026, 7:01 PM IST | Guatemala City

گوئٹے مالا میں یولیدی ایکسکوتویاک کو مردہ سمجھ کر تقریباً ۸؍ گھنٹے تابوت میں رکھا گیا، مگر آخری رسومات کے دوران وہ اچانک اٹھ بیٹھی۔ والد کا دعویٰ ہے کہ انہیں خدا کی جانب سے بیٹی کو اسپتال نہ لے جانے کی ہدایت ملی تھی۔ حکام نے طبی تصدیق کے بغیر موت فرض کرنے کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ لڑکی طبی معائنے کے لیے اسپتال میں داخل ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گوئٹے مالا میں اپنی ہی آخری رسومات کے دوران تابوت سے اٹھ بیٹھنے والی ۱۵؍ سالہ یولیدی ایکسکوتویاک کے معاملے میں سرکاری استغاثہ نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، لڑکی کو طبی معائنے کے لیے ہیوئیتینانگو کے علاقائی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں اس کی صحت کی جانچ کی جارہی ہے۔ گوئٹے مالا کے قومی ادارۂ تحفظِ اطفال نے بھی معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے لڑکی کی خیریت اور حفاظت کا جائزہ لیا ہے۔ حکام یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اہل خانہ نے طبی تصدیق کے بغیر اسے مردہ کیوں سمجھ لیا اور اس کے بعد کیا اقدامات کیے گئے۔ استغاثہ کے مطابق، تحقیقات ۱۱؍ اکتوبر کو شروع ہوئی تھیں، لیکن تاحال کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری یا غفلت کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ ۱۰؍ اکتوبر کو گوئٹے مالا کے صوبے کوئچے کے علاقے ساکاپولاس کے گاؤں ایل خوکوٹے میں پیش آیا۔ یولیدی کے والد ابراہام ایکسکوتویاک کے مطابق، ان کی بیٹی کی طبیعت رات کے وقت خراب ہوئی اور اگلی صبح اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔ وہ اسے گاڑی میں طبی مرکز لے جارہے تھے کہ راستے میں لڑکی بے ہوش ہوگئی۔ والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیٹی کی سانس اور نبض محسوس کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں کوئی علامت محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے اسے مردہ سمجھ لیا اور طبی مرکز پہنچنے کے بجائے گھر واپس لے آئے۔ کسی ڈاکٹر نے اس وقت موت کی تصدیق نہیں کی تھی اور موت کا سرٹیفکیٹ بھی جاری نہیں ہوا تھا۔

ابراہام ایکسکوتویاک، جو اپنے گاؤں میں ایونجیلیکل پادری بھی ہیں، نے مقامی اخبار ’پرینسا لیبرے‘ کو بتایا کہ انہوں نے بیٹی کو اسپتال نہ لے جانے کا فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر کیا تھا۔ ان کے مطابق، انہیں خدا کی جانب سے ہدایت ملی تھی کہ وہ یولیدی کو اسپتال لے جانے کے بجائے گھر واپس لے جائیں۔ انہوں نے کہا، ’’جب وہ میری گاڑی میں فوت ہوئی تو خدا نے مجھے ہدایت دی اور میں اسے اسپتال نہیں لے گیا، کیونکہ ایسا کرنا اس سے بھی برا ہوتا۔‘‘ والد نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اپنی مرضی سے کارروائی کرتے تو ان کے خیال میں خدا کا مقصد پورا نہ ہوتا۔ یہ والد کا ذاتی عقیدہ اور بیان ہے؛ اس وقت لڑکی کی موت کی طبی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
گھر واپس پہنچنے کے بعد خاندان نے تابوت کا انتظام کیا اور آخری رسومات کی تیاری شروع کردی۔ رشتہ دار، پڑوسی اور مذہبی اجتماع سے وابستہ افراد تعزیت کے لیے جمع ہونے لگے۔ والد کے مطابق، وہ گھر کے صحن میں تھے جبکہ دوسرے افراد تابوت کو اس جگہ منتقل کررہے تھے جہاں آخری رسومات کا انتظام کیا گیا تھا۔ اسی دوران یولیدی کی والدہ لیسویہ ریوس نے تابوت کے اندر حرکت محسوس کی۔ انہوں نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ بیٹی کے تابوت پر جھک کر رو رہی تھیں کہ انہیں محسوس ہوا لڑکی زندہ ہے۔ تابوت کھولا گیا تو یولیدی حرکت کرنے لگی اور اچانک اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہاں موجود افراد نے اسے باہر نکالنے میں مدد کی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: تفریحی پارک میں رولر کوسٹر حادثہ، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

یولیدی نے بھی واقعے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بے ہوش ہونے سے پہلے ان کے سینے میں شدید درد شروع ہوگیا تھا۔ ان کے مطابق، ’’میرے دل میں بہت زیادہ درد ہونے لگا، ایسا محسوس ہوا جیسے سینہ بھاری ہوگیا ہو، پھر میں بے ہوش ہوگئی۔‘‘ انہوں نے زندہ ہونے پر خدا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم، ان علامات کی بنیاد پر ان کی طبی کیفیت یا بے ہوشی کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ اس بارے میں حتمی طبی تشخیص سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ گوئٹے مالا کے قومی ادارۂ تحفظِ اطفال نے لڑکی کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے کارروائی کی۔ مقامی اخبار ’پرینسا لیبرے‘ کے مطابق، یولیدی کو ہیوئیتینانگو کے علاقائی اسپتال ڈاکٹر جارج ویدیس مولینا منتقل کیا گیا، جہاں اس کے دماغ اور دل سمیت دیگر طبی پہلوؤں کی جانچ کی جارہی ہے۔ ان معائنوں کا مقصد اس کی موجودہ صحت کا جائزہ لینا اور یہ سمجھنا ہے کہ اس واقعے سے پہلے کون سی طبی کیفیت پیدا ہوئی تھی۔ حکام نے تاحال کسی ایسی تشخیص کا اعلان نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو کہ لڑکی کی طبی موت واقع ہوئی تھی۔ 
اس معاملے میں ایک اہم سوال مقامی طور پر موت کی تصدیق اور اندراج کے طریقۂ کار کا بھی ہے۔ ابراہام ایکسکوتویاک نے دعویٰ کیا کہ ان کے علاقے میں بعض اموات کے اندراج کے لیے ڈاکٹر کی جانب سے موت کا سرٹیفکیٹ لازمی طور پر حاصل نہیں کیا جاتا، بلکہ مقامی معاون میئر یا خاندان کی اطلاع پر کارروائی ہوتی ہے۔ ان کے اس بیان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ استغاثہ کی تحقیقات میں یہ جانچ بھی اہم ہوگی کہ یولیدی کے معاملے میں کون سے ضابطے لاگو ہوتے تھے اور طبی مدد حاصل کرنے کے امکانات کیا تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK