گیان واپی کیس: بھگوا فریق مسلمانوں  سے پہلے ہائی کورٹ سے رجوع

Updated: September 15, 2022, 12:29 AM IST | allahabad

الہ آباد میں کیویٹ داخل کی کہ مسلم فریق ضلع عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرے تو ہندو فریق کا موقف سنے بغیر حکم جاری نہ کیا جائے، انجمن انتظامیہ مساجد ابھی تیاریوں میں ہی مصروف

Banaras District Court which has declared the petition for puja in the mosque admissible. (PTI)
بنارس کا ضلع کورٹ جس نے مسجد میں پوجا کی پٹیشن کو قابل سماعت قرار دیا ہے۔ (پی ٹی آئی)

 :  بنارس کی گیان واپی مسجد کے احاطہ میں شرنگار گوری  کی یومیہ پوجاکی اجازت کی پٹیشن کو ضلع  عدالت کے ذریعہ  قابل سماعت قرار دیئے جانے کے بعد مسلم فریق نے اسے الہ آباد  ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیاتھا مگر اس سے پہلے  بھگوا خیمہ الہ آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا۔  ابھی انجمن انتظامیہ مساجد کی جانب سے  فیصلے کو چیلنج کرنے تیاری  ہی کی جارہی ہے جبکہ  ہندو فریق نے برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ میں بدھ کو ایک کیویٹ داخل کردی تاکہ اگر اس معاملہ میں مسلم فریق ہائی کورٹ کا رخ کرے تو کورٹ اُن کا موقف سنائے بغیر کوئی عبوری حکم صادر نہ کرے۔ 
کیویٹ میں مانگ کی گئی ہے کہ اگر اس سلسلہ میں کوئی عرضی داخل کی جاتی ہے تو اس کی نقل  اُنہیں بھی مہیا کرائی جائے۔دراصل ۱۲؍ستمبر کو بنارس کے ضلع جج ڈاکٹر اجے کرشن وشویش نے سی پی سی کی دفعہ ۷؍ ضابطہ ۱۱؍ کےتحت داخل انجمن انتظامیہ مساجد کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے ۵؍خواتین کی جانب سے داخل مقدمہ کو قابل سماعت قرار دیا ہے اور شرنگار گوری کی پوجا و دیگر دیوتاؤں کے مجسموں کی حفاظت کے مطالبہ والی عرضی پر سماعت  کے لئے ۲۲؍ستمبر کی تاریخ طے کردی ہے۔ 
شرنگار گوری معاملہ پر ضلع عدالت کے فیصلہ کے بعد ریکھا پاٹھک سمیت ۴؍عرضی گزار خواتین نے ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ ان کی جانب سے وکیل پربھاش پانڈے اور ہری شنکر جین نے بدھ کو کیویٹ پٹیشن داخل کی ہے۔ اس میں مانگ کی گئی ہے کہ اگر ضلع جج کے فیصلہ کے خلاف مسلم فریق الہ آباد ہائی کورٹ میں کوئی نظرثانی عرضی داخل کرتا ہے تو ہندو فریق کو بھی موقف رکھنے کا موقع دیا جائے۔  کیویٹ عرضی اس وقت داخل کی جاتی ہے  جب کسی شخص کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی عدالت میں معاملہ دائر کرسکتا ہے۔ کیویٹ بطور احتیاط  داخل  کی جاتی ہے  تاکہ عدالت معاملے کو یکطرفہ سن کر کسی فیصلے پر نہ پہنچ جائے۔  قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی کی راکھی سنگھ کا نام اس کیویٹ عرضی میں شامل نہیں ہے  جن کی جانب سے وشو ویدک سناتن سنگھ کے سربراہ جتیندر سنگھ بسین پیروی کرتے ہیں۔ 
دراصل   ہندو فریقوں میں آپس میں بھی اختلاف ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ دنوں اس وقت ہوچکا ہے جب جتیندر سنگھ بسین نے ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین اور ہری شنکر جین پر متعدد الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں اپنے وکیلوں کی فہرست سے ہٹا دیا تھا لیکن چونکہ بقیہ ۴؍خواتین نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا اس لئے وہ مستقل مذکورہ مقدمہ کی پیروی میں پیش ہوتے رہے۔
وہیں انجمن انتظامیہ مساجد سینئر وکلاء  سے مشورہ کر رہی ہے تاکہ مضبوطی کے ساتھ الہ آباد ہائی کورٹ میں ضلع عدالت کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا جاسکے جس میں ہندو فریق کی عرضی کو قابل سماعت قرار دیا گیا تھا۔ انجمن کے جوائنٹ سیکریٹری ایس ایم یاسین کا کہنا ہے کہ’’ ہم ضلع عدالت کے فیصلہ سے بہت مایوس ہیں۔ ہمیں دکھ ہے کہ فاضل عدالت نے ہمارے سارے دلائل کو یکسر مسترد کردیا لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے اور عدالتی چارہ جوئی جاری رکھیں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت گیان واپی مسجد سے متعلق کم و بیش ۱۳؍مقدمات چل رہے ہیں۔ اس فیصلہ کے بعد ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ 

gyanvapi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK