• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجمیر درگاہ میں وزیراعظم کی طرف سے پیش کی جانے والی چادر کے خلاف مقدمہ رد

Updated: January 05, 2026, 9:54 PM IST | New Delhi

اجمیر شریف میں روایتی طور پر وزیراعظم کی طرف سے پیش کی جانے والی چادر چڑھانے سے روکنے کی درخواست کو سپریم کورٹ نے رد کر دیا۔ یہ مقدمہ ہندو سینا کے چیف نے جنوری ۲۰۲۵ء میں دائر کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجمیر درگاہ ہندو مندر کو توڑ کر بنائی گئی ہے۔

Ajmer Sharif Drgah. Photo: INN
اجمیر درگاہ شریف درگاہ۔ تصویر: آئی این این

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق پیر کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم ہند نریندر مودی کو اجمیر شریف درگاہ پر چادر چڑھانے سے روکنے کی درخواست کو رد کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ بے نتیجہ ہے کیوں کہ چادر کا چڑھاوا دسمبر میں پہنچایا جا چکا ہے۔ بنچ نے  مزید کہا کہ یہ معاملہ کوئی ’’انصافی مسئلہ نہیں‘‘ یا ایسا معاملہ نہیں کہ جس کا فیصلہ عدالت کرے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حکم سے زیر سماعت مقدمہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ۱۳؍ ویں صدی کے صوفی بزرگ خواجہ معین الدینؒ کا مزار شیو مندر پر تعمیر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سنبھل: مسجد، مدرسہ منہدم، بلڈورز کارروائی پر تنازع

واضح ہو کہ چادر کے سالانہ چڑھاوے کے خلاف مقدمہ ہندو سینا کے چیف وشنو گپتا نے جنوری ۲۰۲۵ء میں دائر کیا تھا، جس میں بحث تھی کہ یہ عمل سیاسی تنازع کیلئے جواز پیش کرتا ہے۔ اپنے اصل مقدمے میں گپتا نے ہدایت مانگی کہ اجمیر شریف درگاہ کو بھگوان شری سنکٹموچن مہادیو ویراجمان مندر قرار دیا جائے۔ درخواست میں یہ اپیل کی گئی کہ درگاہ کے احاطے سے کمیٹی کو نکالا جائے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس جگہ کا آرکیالوجیکل سروے کرایا جائے۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ داخلی حصے کی چھت پر جو نقاشی کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہندو عمارت ہے اور یہ جگہ اصل میں ایک مندر ہے۔ یاد رہے کہ نریندر مودی نے ۲۰۱۴ء سے وزیراعظم ہند کی جانب سے درگاہ کیلئے چادر بھیجنے کی روایت برقرار رکھی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دہلی حکومت نے سال بھر کیلئے مفت شکر کی تقسیم کی منظوری دی

لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق گپتا نے درخواست میں بحث کی ہے کہ اس عمل کی شروعات ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے ذریعے ۱۹۴۷ء میں ہوئی جس کی کوئی آئینی بنیاد نہیں ہے۔ چڑھاوے کے خلاف یہ مقدمہ جنوری ۲۰۲۵ء میں نریندر مودی کی طرف سے روایتی چادر بھیجے جانے سے قبل دائر کیا گیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے بعد ۲۲؍ دسمبر کو وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے نریندر مودی کی طرف سے چادر پیش کی تھی۔

واضح رہے کہ دسمبر ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ نے ٹرائل عدالتوں کو عبادت گاہوں کے مذہبی کردار اور سروے کی ہدایت سے متعلق احکامات جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ جب تک عباد تگاہوں کے قانون (۱۹۹۱ء) کی آئینی حیثیت پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا تب تک ملک بھر میں کہیں بھی اس قانون کے تحت نئے مقدمات درج نہیں کئے جائیں گے۔ یہ قانون ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کے وقت موجود کسی بھی عبادت گاہ میں تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ اس وقت ملک بھر میں وارانسی کی گیان واپی مسجد، متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد اور جونپور کی اٹالہ مسجد سمیت ۱۰؍ مساجد اور مقبروں پر کم از کم ۱۸؍ مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ہندو فریق نے ان مقدمات میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمارتیں قدیم ہندو مندروں کو توڑ کر بنائی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK