چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپوزیشن کی مہم کے درمیان بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں نے بھی مظاہرے کیے؛ لندن، برلن اور ایمسٹرڈیم میں شرکا نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر جواب دہی اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 8:03 PM IST | London
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپوزیشن کی مہم کے درمیان بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں نے بھی مظاہرے کیے؛ لندن، برلن اور ایمسٹرڈیم میں شرکا نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر جواب دہی اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ اب ملک کی سرحدوں سے باہر بھی احتجاج کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں نے لندن، برلن اور ایمسٹرڈیم میں مظاہرے کرکے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کی اور انتخابی کمیشن سے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرے ہندوستان میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جاری احتجاج کے پس منظر میں ہوئے، جہاں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن، جرمنی کے شہر برلن اور نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں ہونے والے مظاہروں میں شریک افراد نے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان احتجاجی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں انتخابی فہرستوں اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق تنازع پر بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کا ایک حلقہ بھی آواز اٹھا رہا ہے۔ تاہم، ان تینوں شہروں میں مظاہرین کی تعداد، منتظمین اور احتجاج کے مقام سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوسکی ہے۔
Several Indians living abroad held protests seeking Gyanesh Kumar`s resignation. Demonstrations were held in London, Berlin, and Amsterdam https://t.co/HvB041Atji
— The Telegraph (@ttindia) October 12, 2026
ہندوستان میں اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں نام حذف کیے گئے، جس سے اہل ووٹروں کے حقِ رائے دہی پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے اور انتخابی فہرستوں کے جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد فہرستوں سے نقل، فوت شدہ اور دیگر نااہل اندراجات کو دور کرنا اور اہل ووٹروں کو فہرست میں شامل رکھنا ہے۔ انتخابی عمل میں جانبداری کے الزامات کی تردید بھی کی گئی ہے۔ بیرونِ ملک مظاہروں کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ انتخابی عمل سے متعلق یہ تنازع اب صرف ہندوستان کی داخلی سیاسی بحث تک محدود نہیں رہا۔ لندن، برلن اور ایمسٹرڈیم میں احتجاج کرنے والوں نے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی اداروں کی جواب دہی اور ووٹنگ کے حقوق کے معاملے کو نمایاں کیا۔ تاہم، ان مظاہروں سے بیرونِ ملک مقیم تمام ہندوستانیوں کی رائے اخذ نہیں کی جاسکتی؛ یہ احتجاج میں شریک افراد کے مطالبات کی عکاسی کرتے ہیں۔