گیان واپی مسجد : سنی وقف بورڈ فیصلے کو چیلنج کریگا

Updated: April 10, 2021, 2:23 PM IST | Agency | Varanasi

مقامی عدالت کے فیصلے سے سنی وقف بورڈ حیرت زدہ،معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہونے کے باوجود فیصلہ کئے جانے پر ناراضگی ظاہر کی ، وقف بورڈ کے وکیل نے کہا کہ مقامی عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر فیصلہ دیا ہے اس لئے اسے چیلنج کیا جائے گا

Gyanvapi Masjid.Picture:INN
گیان واپی مسجد۔تصویر :آئی این این

 اترپردیش کے ضلع وارانسی میں قائم گیان واپی مسجد  اورکاشی وشو ناتھ مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں جمعرات کو اس وقت نیا موڑ آگیا جب ۳۱؍سال پرانے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے  فاسٹ ٹریک کورٹ کے سینئر جج نے گیان واپی احاطے کا آثار قدیمہ سروے کا حکم دےدیا۔اس ضمن میں سنی وقف بورڈ نے عدالت کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وقف بورڈ کے وکیل ابھے ناتھ یادو نے کہا کہ عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر حکم دیا ہے۔اس مقدمے کی سماعت کے دائرہ اختیار کے سلسلے میں سنی وقف بورڈ اور  انتظامیہ مسجد کمیٹی نےسول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک کی کورٹ  میں چیلنج کیا تھا۔ گزشتہ سال ۲۵؍فروری کو سول جج نے چیلنج کا مقدمہ  خارج کردیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سنی سینٹرل وقف بورڈ اور انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے ضلع جج کے یہاں نگرانی عرضی داخل کی تھی۔اس پر ۱۲؍اپریل کو سماعت ہونی ہے۔ اسی مقدمے کی ویلیڈیٹی کے سلسلے میں ہائی کورٹ میں بھی سماعت چل رہی ہے۔ اس معاملے میں دونوں فریقین کی جانب سے بحث پوری ہوچکی ہے اور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ ابھے ناتھ یادو کے مطابق گیان واپی احاطے کے متنازع مقام کا رڈار تکنیک اور کھدائی کے ذریعہ آثارقدیمہ کا سروے کیا جائے گا جو موجودہ حالات میں اور اس وقت قطعی غیر ضروری ہے۔ ہندو فریق کے  دعویٰ والی عرضی پر انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی اور سینٹرل سنی وقف بورڈ نے اعتراض کر تے ہوئے کہا تھا کہ گیان واپی میں مندر نہیں تھا۔ ہمیشہ سے وہاں مسجدہی رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک جگہ دو جیوتر لنگ کیسے ہوسکتے ہیں۔اسی سے واضح ہو تا ہے کہ وہاں کوئی مندر کبھی تھا ہی نہیں۔ اسی بنیاد پرچیلنج بھی کیا گیا ہے۔  

varanasi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK