صنعتی شہر مالیگاؤں کے اے ٹی ٹی ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج اورپھرطبیہ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کےساتھ ساتھ حافظ فیضان نے حفظ بھی مکمل کیا اور۱۰؍سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 3:11 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
صنعتی شہر مالیگاؤں کے اے ٹی ٹی ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج اورپھرطبیہ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کےساتھ ساتھ حافظ فیضان نے حفظ بھی مکمل کیا اور۱۰؍سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔
یہ ہیں مالیگاؤں کے حافظ ڈاکٹر فیضان برکاتی(۲۷) جو اِس وقت حیدرآباد کے نیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین فار اِسکین ڈسیٖز آرڈرس فارماکولوجی میں ایم ڈی کررہے ہیں۔ امسال ماہِ مبارک میں امتحان دیتے ہوئے نمازِ تراویح کی امامت بھی کررہے ہیں۔ تراویح سنانے کادورانیہ دس سالوں پر محیط ہوچکا ہے۔ اس سے قبل وہ مالیگاؤں میں مسجد علامہ حامد رضا، مسجد صادق اور مسجد تاج الشریعہ میں تراویح پڑھاچکے ہیں۔ بغرض اعلیٰ تعلیم سالِ گزشتہ حیدرآباد پہنچے تو اُس ماہِ صیام میں بھی ایک فلیٹ میں تراویح پڑھانے کا شرف انہیں ملا تھا۔
خانقاہِ مارہرہ مطہرہ (اترپردیش )سے اصلاحی تعلق اور حضرت سیّد آلِ رسول نظمی میاں رحمتہ اللہ علیہ (سابق ڈائریکٹر مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات حکومت ہند) سے شرف بیعت رکھنے والے حافظ فیضان نے بتایا کہ اے ٹی ٹی ہائی اسکول اینڈجونیئر کالج سے ۱۲؍ویں جماعت سائنس فیکلٹی کامیاب کرنے کے بعد انہیں نیٖٹ میں بھی اچھے نمبرات ملے تھے۔ ۲۰۱۵ء میں گیارہویں جماعت کی تعلیم کے دوران جامعہ عربیہ حنفیہ سُنّیہ (اسلام پورہ) میں جاری حفظ کلاس سےسند تکمیل حفظ حاصل ہوئی۔ حافظ شاہد احمد ان کے استاد تھے، انہی کی نگرانی میں کلام مجید حفظ کا مرحلہ طے ہوا۔ بقول حافظ فیضان ’’الحمدللہ! مَیں اپنے خاندان میں پانچ بھائیوں اور ایک بہن میں پہلا حافظ قرآن ہوں۔ مالیگاؤں کے ہزارکھولی علاقے میں البرکات مینس ویئر والے محمد عامر برکاتی میرے بڑے بھائی ہیں۔ والدمحمد حنیف پاورلوم مزدور تھے۔ اِس وقت اُن کی عمر ۵۶؍ سال ہوچکی ہے۔ ‘‘
حافظ فیضان کے مطابق ڈاکٹری کیلئے کالج میں داخلے کے ابتدائی دنوں میں مشکلیں ضرور پیش آئیں۔ اتفاق ایسا ہوا کہ سمر سیزن ایگزام گروپ ہونے کی وجہ سے ہر سال یونیورسٹی کے امتحانات ماہِ رمضان المبارک میں یا اس کےآس پاس ہی منعقد ہوتے تھے۔ یونیورسٹی ایگزام اور ماہِ رمضان میں امامت تراویح، اِن دونوں کیلئے بیک وقت تیاریاں کرنا اور خاص طور سے ماہِ مبارک کے نظام الاوقات میں سختی سےکاربند رہنا چیلنج ہی رہا۔ اس دوران ساتھی حفاظ کے ساتھ جوڑی بنا کر تراویح پڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا اُسےموقوف نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ طبیہ کالج سے فراغت کے بعد مالیگاؤں کےشفا ہاسپٹل میں آئی سی یو، آر ایم او کے طور پر کام کرنے لگا۔ اسپتال کے انتظامیہ اور عملے نے ماہِ مبارک میں میرے ساتھ رعایت کا معاملہ رکھا۔ اِسلئے تراویح کی امامت کیلئے پیشگی تیاریوں میں دورانِ امامت مجھے تکالیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
عصری علوم کے حصول کیلئے پیش رفت جاری رکھنے والے طلبہ کے نام پیغام میں حافظ ڈاکٹر فیضان برکاتی (ایم ڈی، فارماکولوجی) نے کہا کہ کلام مجید حفظ کرنے کیلئے خصوصی اہتمام کریں۔ جس طرح اسکول کالج کیلئے کوچنگ اور ٹیوشن کلاسیز جوائن کرتے ہیں۔ وقت کی پابندی کیساتھ کوچنگ اور کلاسیز جاتےہیں۔ اسی طرح حفظ کلاس بھی جوائن کریں۔ اَب ہمارے یہاں اِس تصور کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ حافظ قرآن کامیاب ڈاکٹر، ٹیچر، بزنس مین، سرونٹ، آفیسر اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بھی ہوسکتا ہے۔ والدین اور سرپرستوں کو چاہئے کہ جتنی مشقت اور توجہ سے اپنے لاڈلوں کی عصری تعلیم کی تکمیل اور انہیں برسرروزگار کرنے پر صرف کرتے ہیں اُسی طرح اُن کے سینوں میں کلام پاک محفوظ کرنے کیلئے بھی منصوبہ بندی کریں۔ اِس کے مثبت اور صحت مند نتائج گھریلو اورخاندان حتیٰ کہ پورے معاشرے میں نظر آئیں گے۔