بائرن فٹبال ٹیم کے کپتان نے ۲۵؍ سال بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے انگلش کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔ بائرن میونخ کے اسٹار اسٹرائیکر نے گزشتہ سیزن میں ۷۳؍گول اسکور کیے۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 4:03 PM IST | London
بائرن فٹبال ٹیم کے کپتان نے ۲۵؍ سال بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے انگلش کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔ بائرن میونخ کے اسٹار اسٹرائیکر نے گزشتہ سیزن میں ۷۳؍گول اسکور کیے۔
انگلینڈ کے مایہ ناز فٹ بالر اور بائرن میونخ کے کپتان ہیری کین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فٹ بال کی دنیا کا سب سے معتبر انفرادی اعزاز ’’بیلن ڈی اور ۲۰۲۶ء‘‘ اپنے نام کر لیا۔ لندن میں منعقدہ تقریب میں ان کے نام کا اعلان کیا گیا، جس کے ساتھ ہی وہ ۲۵؍ سال بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے انگلش فٹ بالر بن گئے۔ اس سے قبل انگلینڈ کے مائیکل اوون نے ۲۰۰۱ء میں یہ ایوارڈ جیتا تھا۔
It`s just about the emotions! #ballondor https://t.co/oTFnzb9vPt
— Ballon d`Or (@ballondor) October 26, 2026
ہیری کین کی یہ کامیابی ان کی مسلسل محنت، گول کرنے کی غیر معمولی صلاحیت اور کلب و قومی ٹیم کے لیے نمایاں خدمات کا اعتراف قرار دی جا رہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سیزن میں بائرن میونخ اور انگلینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے مجموعی طور پر ۷۳؍ گول اسکور کیے، جس نے انہیں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی صف میں نمایاں مقام دلایا۔گول اسکورنگ میں غیر معمولی مہارتہیری کین نے ۲۶۔۲۰۲۵ءکے سیزن میں اپنی شاندار فارم برقرار رکھتے ہوئے حریف ٹیموں کے دفاع کو مسلسل مشکلات سے دوچار کیا۔ ان کی عمدہ فنشنگ، گیند پر کنٹرول، کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت اور دباؤ میں درست فیصلے کرنے کے انداز نے ٹیم کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔
بائرن میونخ کی جانب سے کھیلتے ہوئے کین نے جرمن بنڈس لیگا میں مسلسل تیسری مرتبہ سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے چیمپئنز لیگ میں بھی ۱۴؍ گول اسکور کیے، تاہم ان کی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے کے بعد مقابلے سے باہر ہو گئی۔کین کی کارکردگی کا اہم پہلو یہ بھی رہا کہ وہ صرف گول کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے اور ٹیم کے حملوں کو مؤثر بنانے میں بھی نمایاں رہے۔بائرن میونخ کی کامیابیوں میں اہم کردارہیری کین نے بائرن میونخ کو جرمن فٹ بال میں کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شاندار گول اسکورنگ کی بدولت کلب نے بنڈس لیگا کا ٹائٹل برقرار رکھا، جبکہ ٹیم نے جرمن کپ اور فرانز بیکن باؤر سپر کپ بھی اپنے نام کیا۔
یہ بھی پڑھئے:پردیپ کمار نےبادشاہ اور نواب بن کر بالی ووڈ پر راج کیا
کین کی موجودگی نے بائرن میونخ کے حملہ آور کھیل کو مزید مؤثر بنایا۔ ان کی تجربہ کاری، میدان میں قائدانہ صلاحیت اور اہم مواقع پر گول کرنے کی مہارت نے انہیں ٹیم کا کلیدی کھلاڑی بنا دیا۔ان کی انفرادی کارکردگی اور ٹیم کی کامیابیوں نے بیلن ڈی اور کی دوڑ میں ان کے امکانات کو مضبوط کیا، جس کا نتیجہ اب اس بڑے اعزاز کی صورت میں سامنے آیا ہے۔۲۵؍ سال بعد انگلینڈ کے لیے تاریخی کامیابی بیلن ڈی اور جیتنا ہیری کین کے لیے ذاتی کامیابی کے ساتھ ساتھ انگلش فٹ بال کے لیے بھی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ مائیکل اوون نے ۲۰۰۱ء میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا، جس کے بعد کسی انگلش مرد فٹ بالر کو یہ ٹرافی نہیں مل سکی تھی۔اس کامیابی کے ساتھ کین بیلن ڈی اور جیتنے والے پانچویں انگلش کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ان سے پہلے سر اسٹینلے میتھیوز، سر بوبی چارلٹن، کیون کیگن اور مائیکل اوون یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
انگلینڈ کی قومی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے کین نے گزشتہ سیزن میں بھی اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں نبھائیں۔ قومی ٹیم کے لیے ان کی گول اسکورنگ اور قیادت نے انہیں انگلش فٹ بال کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا ہے۔حریف کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیابیلن ڈی اور ۲۰۲۶ء کی دوڑ میں ہیری کین کو کائیلیان ایمباپے اور الامین جمال جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں سے سخت مقابلے کا سامنا تھا۔ تاہم مجموعی کارکردگی، گول اسکورنگ اور ٹیم کی کامیابیوں کی بنیاد پر کین نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔حتمی درجہ بندی میں کین پہلے، کائیلیان ایمباپے دوسرے اور الامین جمال تیسرے نمبر پر رہے۔ روڈری چوتھے جبکہ لیونل میسی پانچویں نمبر پر رہے۔یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید فٹ بال میں انفرادی صلاحیت کے ساتھ ٹیم کے لیے مسلسل مؤثر کارکردگی بھی بڑے انفرادی اعزازات کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی پر تعطل برقرار
ہیری کین کا اظہارِ تشکرایوارڈ وصول کرتے ہوئے ہیری کین نے اپنی کامیابی کو ٹیم ورک اور اپنے قریبی لوگوں کی حمایت کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے بائرن میونخ اور انگلینڈ کے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور اپنے خاندان کا شکریہ ادا کیا۔کین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں گول کرنا صرف ایک کھلاڑی کی کوششوں سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ٹیم کے ہر رکن کی محنت، تربیت اور میدان میں باہمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے مشکل مراحل کا ذکر کرتے ہوئے محنت، ثابت قدمی اور خود اعتمادی کو کامیابی کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔بہترین اسٹرائیکر کا اعزاز بھی حاصل کر لیابیلن ڈی اور کے ساتھ ہیری کین نے سال کے بہترین مرد اسٹرائیکر کا جرڈ مولر ٹرافی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ اس طرح انہوں نے تقریب میں دو اہم انفرادی اعزازات اپنے نام کیے۔یہ کامیابی ان کی گول اسکورنگ کی صلاحیت کا واضح اعتراف ہے اور اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انہوں نے گزشتہ سیزن میں یورپی فٹ بال کے اعلیٰ ترین مقابلوں میں اپنی دھاک بٹھائی۔
فٹ بال کی دنیا میں نئی تاریخ ہیری کین کی بیلن ڈی اور ۲۰۲۶ء میں کامیابی ان کے طویل اور محنت طلب کیریئر کا اہم سنگِ میل ہے۔ قرض پر مختلف کلبوں کے لیے کھیلنے اور ابتدائی کریئر میں مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد عالمی فٹ بال کے سب سے بڑے انفرادی اعزاز تک پہنچنا ان کی ثابت قدمی کی مثال ہے۔ان کی کامیابی نوجوان فٹ بالرز کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ مستقل مزاجی، محنت، نظم و ضبط اور اپنی صلاحیتوں پر یقین کے ذریعے بڑے سے بڑا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ہیری کین کے لیے یہ ٹرافی محض ایک انفرادی ایوارڈ نہیں بلکہ ان کی برسوں کی جدوجہد، گول اسکورنگ میں مہارت اور عالمی سطح پر مسلسل عمدہ کھیل کا اعتراف ہے۔ انگلینڈ اور بائرن میونخ کے شائقین کے لیے یہ کامیابی یقیناً یادگار رہے گی۔