یوکرین اور روس کے درمیان تاریخی معاہدہ ، گندم کی قیمتوں میں کمی

Updated: July 24, 2022, 9:26 AM IST | Moscow

یوکرین روس کی جنگ سےپہلے کی قیمت پر فروخت ہونے لگا ، ماہرین نے معاہدے کی دیرپا پاسداری پر تشویش کا اظہار کیا ، عمل درآمد کیلئے اقوام متحدہ ایک کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کرے گا  دو ماہ مذاکرات ہوئے ، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ماسکو اور کیف کے نمائندے ایک میز پر بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہورہے تھے۔ اقوام متحدہ اورتر کی کی کوششوں سے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی

Defense Ministers of Russia and Ukraine met in Istanbul in the presence of Recep Tayyip Erdogan and Antonio Ghatris.
استنبول میں رجب طیب اردگا ن اور انتونیو غطریس کی موجودگی میں روس اور یوکرین کے وزرائے دفاع کی ملاقات ۔

یوکرین اور روس کے درمیان گندم  سے متعلق تاریخی معاہدہ ہواہےجس  کے تحت تین یوکرینی بندرگاہوں سے اجناس کی برآمد بحال ہوگی۔اس معاہدے کے بعد جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی غذائی بحران پر قابو پایا جاسکے گا۔معاہدے کیلئے پچھلے دو ماہ سے مذاکرات جاری تھے، حتمی معاہدے تک پہنچنے میں اقوام متحدہ اور ترکی نے اہم کردار ادا کیا۔ اہم بات یہ ہےکہروس اور یوکرین کے درمیان اناج کی برآمدات  سے متعلق ہونے والے تاریخی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر گندم کی قیمت میں پہلی مرتبہ کمی آئی ہے۔
 تلخی کے درمیان معاہدہ مکمل ہوا 
  میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کیلئے تقریب استنبول میں ہوئی جہاں یوکرین اور روس کے نمائندوں نے ایک ہی ٹیبل پر بیٹھنے سے انکار کیا۔دونوں ممالک نے اپنے وزرائے دفاع اور  وزیر برائے بنیاد ی ڈھانچہ کو تقریب میں شرکت کیلئے بھیجا جہاں ترک صدر طیب اردگان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی موجود تھے۔
بندرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے پر دستخط
   اس دوران روس اور یوکرین نے  اناج کی برآمدات کیلئےبحیرۂ اسود کی یوکرینی بندرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس تاریخی معاہدے کے تحت سخت معاشی پابندیوں کے باوجود روسی اناج اور کھاد کی ترسیل میں نرمی کرتے ہوئے یوکرینی اناج کی برآمدات کو بحال کیا جائے گا۔
 خیال رہے کہ روس نے یوکرین کی بندرگاہوں کو سیل کر دیا تھا جس کے بعد ہزاروں ٹن اجناس کی بیرون ملک ترسیل رک گئی تھی اور غذائی بحران کا اندیشہ تھا۔
  میڈیارپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں گندم کی قیمت روس یوکرین جنگ شروع ہونے سے پہلے والی سطح پر  آ گئی ہیں۔ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ میں گندم کی قیمت میں۵ء۹؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد تقریباً۲۷؍    کلوگرام گندم کی قیمت ۷ء۵۹؍ ڈالر ہو گئی ہے۔ 
 خیال رہے کہ دنیا بھر میں درآمد ہونے والی گندم کا ۳۰؍فیصد روس اور یوکرین پیدا کرتا ہے۔ روسی جنگی جہازوں نے یوکرین کی بندرگاہوں پر موجود تقریباً۲۵؍ ملین ٹن گندم اور دیگر اناج کی ترسیل  روک دی تھی۔
 ماہرین کو تشویش 
 گندم کی قیمتوں میں فوری کمی کے باوجود تجزیہ نگار نے معاہدے کی دیر پا پاسداری   سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔گلوبل کموڈیٹی کنسلٹنگ کے صدر مائیکل زوزولو نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی اس معاہدے کے تحت بڑی مقدار میں اناج کی ترسیل ممکن ہو سکے گی؟
 قیمتوں میں مزید کمی کی امید نہیں
 انہوں نے کہا کہ یورپ کے کچھ علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال کے سبب گندم کی قیمت میں مزید کمی شاید  نہ ہوسکے۔ روس اور یوکرین کے علاوہ امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا گندم برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک شامل ہیں جبکہ سب سے زیادہ گندم مصر، انڈونیشیا، نائیجیریا اور ترکی درآمد کرتے ہیں۔دنیا بھر میں چند  ممالک ہی ایسےہیں جو اتنی مقدار میں گندم پیدا کرتے ہیں کہ اپنی ضرورت پوری کریں اور اس کے بعد دیگر ممالک کو بھی دیں ۔چین گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن اپنی ایک کروڑ۴۰؍ ارب کی آبادی کیلئے اسے زیادہ سے زیادہ گندم درآمد بھی کرنا پڑتا ہے۔
 اناج کی قیمت روس کے یوکرین پر فروری میں حملہ کرنے سے پہلے بھی زیادہ تھیں جس کی بڑی وجہ کورونا کی عالمی وباء سے پیدا ہونے والے حالات ہیں لیکن روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے گندم کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا جو یورپی مارکیٹ میں مئی کے مہینے میں۴۰۰؍ یورو فی ٹن ہو گئی۔ گزشتہ سال موسم سرما کے مقابلے میں گندم کی قیمت میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔
 اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق۳۰؍ سے زیادہ ممالک کا  تقریباً ۳۰؍ فیصد گندم کی درآمد کیلئے روس اور یوکرین پر انحصار  ہے۔یوکرین اور روس ہی یورپی ممالک کیلئے اناج کی سپلائی کا اہم ذریعہ ہیں۔ یورپ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے ۳۰؍ فیصد اناج ان دو ممالک  ہی سے درآمد کر کے پورا کرتا ہے۔
 روس کی بحریہ نے بحر اسود پر یوکرین کی اہم بندرگاہوں کا راستہ روکا ہے جس سے یوکرین۲۵؍ ملین ٹن اناج درآمد کرنے سے قاصر ہے جو مختلف بندرگاہوں یا کھیتوں میں پڑا ہوا ہے لیکن جمعہ کو ہونے والے تاریخی معاہدے کے بعد اناج کی ترسیل کیلئےبندرگاہوں کا راستہ کھول دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا بیان 
 اسی دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس  نے کہا کہ معاہدے کے بعد یوکرین کی اجناس کی برآمدات بحال ہوجائیں گی جبکہ روسی اجناس اور فرٹیلائزز برآمدات سے بھی پابندی کا خاتمہ ہوگا۔سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ تین یوکرینی بندرگاہوں، اوڈیسا، چرنومورسک اور یزنی سے اجناس برآمد کی جاسکیں گی اور معاہدے پر عمل درآمد کیلئے اقوام متحدہ ایک کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کرے گا۔

ukraine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK