عدم برداشت اور اشتعال انگیزی کے ایک لرزہ خیز واقعہ نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ٹریفک کے دوران پیش آنے والی ایک معمولی ٹکر اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ہرجانے کے تنازع نے چند ہی منٹوں میں وحشیانہ رخ اختیار کر لیا جہاں طیش میں آئے موٹر سائیکل سواروں نے دن دہاڑے ایک نوجوان کار ڈرائیور کو چاقو کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
مقتول اولا ڈرائیور راج مڑوی۔ تصویر: آئی این این
عدم برداشت اور اشتعال انگیزی کے ایک لرزہ خیز واقعہ نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ٹریفک کے دوران پیش آنے والی ایک معمولی ٹکر اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ہرجانے کے تنازع نے چند ہی منٹوں میں وحشیانہ رخ اختیار کر لیا جہاں طیش میں آئے موٹر سائیکل سواروں نے دن دہاڑے ایک نوجوان کار ڈرائیور کو چاقو کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ خون کے اس کھیل نے نہ صرف پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے بلکہ شہری حلقوں میں سڑکوں پر بڑھتے ہوئے پرتشدد رویوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ وڈولی علاقے میں واقع کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کے اے وارڈ دفتر کے احاطے کے قریب پیش آیا۔ مقتول کی شناخت اولا ڈرائیور راج مڑوی کے طور پر ہوئی ہے۔ راج اپنی کار سے جا رہا تھا کہ اچانک اس کی گاڑی ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق ٹکر اتنی شدید نہیں تھی، البتہ موٹر سائیکل کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ پور میں دھان کی۹۰؍ فیصد فصل تباہ، خشک سالی قرار دینے کا مطالبہ
اس معمولی نقصان کے ازالے اور معاوضے کیلئے راج مڑوی اور موٹر سائیکل پر سوار افراد کے درمیان سخت تکرار شروع ہو گئی۔ لفظی جھڑپ نے دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد شکل اختیار کر لی۔غصہ سے بے قابو ملزمین نے اچانک تیز دھار چاقو نکال کر راج مڑوی پر پے در پےحملے شروع کر دئیے ۔ سینے اور پیٹ پر لگنے والے مہلک زخموں کے سبب شدید خون بہہ جانے کی وجہ سے راج زمین پر گر پڑا اور اسپتال پہنچائے جانے سے قبل ہی جائے وقوع پر تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا۔اس وحشیانہ واردات کے بعد جائے وقوع پر چیخ و پکار مچ گئی اور ملحقہ بازار اور رہائشی بستی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کھڑک پاڑہ پولیس اسٹیشن کا عملہ فوری طور پر حرکت میں آیا اور لاش کو تحویل میں لےکر پوسٹ مارٹم کیلئے روانہ کیا۔ پولیس نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختصر وقت میں تینوں ملزمین کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار شدگان کی شناخت وکاس یادو، سوربھ سالونکھے اور ایک خاتون کے طور پر ہوئی ہے۔