جنگ کی وجہ سے ایکسپورٹ پر برا اثرپڑا۔ ۱۵۰؍ سے زیادہ کنٹینر س بندرگاہوںپر کھڑے ہیں۔ ۵۰؍فیصد دام گرنے سےکسان پریشان۔ حکومت سے مدد مانگی۔
جنگ کے سبب پیازکی قیمت کم ہونے سے کسانوں کوخسارے کا سامنا ہے۔ تصویر:آئی این این
ایران ، امریکہ اور اسرائیل جنگ سے جہاں پیاز کے ایکسپورٹ پر برا اثر پڑا ہے وہیں ایل پی جی سلنڈروں کی کمی سے شہرومضافات کے تقریباً ۷۰؍فیصد ہوٹل بند ہونے سے پیاز کی مانگ میں زبردست کمی آئی ہےجس کی وجہ سے اس کی قیمت بھی کم ہو گئی ہے۔پیاز کا کاروبار متاثر ہونے اور قیمت گرنے سے کسان سخت پریشان ہیں ۔ کسانوں کی تنظیم نے اس معاملہ میں ریاستی حکومت سے مدد کرنے کی اپیل کی ہے ۔
جنگ کی وجہ سے پیاز سے بھرے ۱۵۰؍ سے زیادہ کنٹینر مختلف بندر گاہوں پر کھڑے ہیں ۔ان کنٹینروں میں پیاز کا بڑا ذخیرہ موجودہے۔علاوہ ازیں گیس سلنڈروں کی قلت سے ممبئی اور آس پاس کے شہروں میں ۷۰؍ سے ۷۵؍ فیصد ہوٹل بند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے پیاز کی مانگ میں کافی کمی آئی ہے ۔ نتیجتاً پیاز کی قیمت بھی گر گئی ہے ۔ اس وقت سفید پیاز کی قیمت ۱۵؍ سے ۲۰؍ روپے فی کلو ہے۔
مہاراشٹر میں ایک اور۲؍نمبرکی پیاز بالترتیب ۱۳؍ سے ۱۵؍ روپے اور ۱۰؍ سے ۱۲؍ روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے ۔ بغیر پتوں کی سوکھی اور گیلی پیاز۶؍سے۸؍ اور ۴؍ سے ۶؍روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے ۔
جنگ کی وجہ سے پیاز کی تھوک قیمت تقریباً ۵۰؍فیصد کم ہوگئی ہے جس سے کسانوں کیلئے پیاز کی پیداوارپر آنے والی لاگت کی وصولی مشکل ہو رہی ہے ۔ اس وجہ سے مہاراشٹر میں پیاز کے کسانوں کی سب سے بڑی تنظیم نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے مارکیٹ انٹروینشن اسکیم ( ایم آئی ایس ) نافذ کرنے کی اپیل کی ہے ۔ جو کسانوں کو پیداوار کی لاگت سے کم قیمت ملنے کی پریشانی سے بچانے کیلئے مرکزی حکومت کی پالیسی ہے ۔
کسانوں کی مذکورہ تنظیم نے وزیر اعلیٰ کو جو مکتوب روانہ کیا ہے جس میں گزشتہ ۴؍ ہفتوں سے مختلف بندرگاہوں پر پیاز سے بھرے ۱۵۰؍ سےزیادہ کنٹینروں کے پھنسے ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ فروری کے آخری ہفتے میں جنگ شروع ہونے سے قبل پیاز کی قیمت ایک ہزا ر ۵۰۰؍ روپے فی کوئنٹل سے زیادہ تھی لیکن گزشتہ۳،۴؍ دن میں یہ قیمت ۸۰۰؍ روپے فی کوئنٹل اور اس سے نیچے پہنچ گئی ہے جبکہ پیازکی پیداوار کی لاگت ایک ہزار روپے فی کوئنٹل ہے۔ جنگ نے کسانوں کو خسارے میں ڈال دیا ہے ۔
کسانوں کی تنظیم کے صدر بھرت دیگھولے کے مطابق ’’صورتحال کی سنگینی اور قیمت میں تقریباً ۵۰؍ فیصد کمی واضح طور پر مارکیٹ میں پیاز کی فروخت میں پریشانی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لئے ریاستی حکومت کو فوری طور پر مرکزی حکومت کو ایم آئی ایس نافذ کرنے کیلئے تجویز بھیجنی چاہئے ۔ پیاز کے کاشتکار پہلے ہی برآمدی پالیسیوں کی وجہ سے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور جنگ نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ ‘‘
مہاراشٹر اسٹیٹ ایگریکلچر پرائس کمیشن کے سربراہ پاشا پٹیل نے کہا کہ’’ وزیر اعلیٰ پیاز کی قیمتوں کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور وہ برآمد کے معاملے پر جلد ہی مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل سے ملاقات کریں گے ۔‘‘