امریکی بینک جے پی مورگن کے چیف اکانومسٹ بروس کاسمین کا ماننا ہے کہ اگر ہرمزگزرگاہ مزید ایک ماہ تک بند رہی تو تیل کی قیمتیں ۱۵۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 2:05 PM IST | New York
امریکی بینک جے پی مورگن کے چیف اکانومسٹ بروس کاسمین کا ماننا ہے کہ اگر ہرمزگزرگاہ مزید ایک ماہ تک بند رہی تو تیل کی قیمتیں ۱۵۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
امریکی بینک جے پی مورگن کے چیف اکانومسٹ بروس کاسمین کا ماننا ہے کہ اگر ہرمزگزرگاہ مزید ایک ماہ تک بند رہی تو تیل کی قیمتیں ۱۵۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق کاسمین نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز مزید ایک ماہ تک بند رہتی ہے تو تیل کی قیمتیں ۱۵۰؍ ڈالر فی بیرل کے قریب جا سکتی ہیں اور توانائی استعمال کرنے والی صنعتوں کے لیے سپلائی کی بندش کا باعث بن سکتی ہے۔
۲۸؍فروری ۲۰۲۶ءکو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیے جس سے جانی و مالی نقصان ہوا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی سرزمین اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے جہاز رانی عملی طور پر رک گئی ہے، جو خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے اور اس ناکہ بندی کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
حوثیوں کی باب المندب بند کرنے کی دھمکی
یمن کی انصار اللہ تحریک، جسے حوثی بھی کہا جاتا ہے، نے باب المندب کی ناکہ بندی کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ حوثی حکومت کے نائب وزیر اطلاعات محمد منصور کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تیل کی قیمتیں ۲۰۰؍ ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:`’’کپتان‘‘ میں میرا کردار کام کرنے کے لیے اصولوں کو توڑنے پر یقین رکھتا ہے: ثاقب
اطالوی نیوز پورٹل انسائیڈ اوورکو انٹرویو دیتے ہوئے محمد منصور نے یمنی ساحل کے قریب واقع باب المندب کو بند کرنے کے سوال پر کہا کہ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے دشمنوں پر یہ واضح کر دیں کہ ہم کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ مزاحمتی بلاک کا دشمن بنا رہا، تو ہم تیل کی قیمت ۲۰۰؍ ڈالر فی بیرل تک لے جائیں گے، جس سے اس کی معیشت متاثر ہوگی۔ ۲۸؍فروری ۲۰۲۶ءکو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیے جس سے جانی و مالی نقصان ہوا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی سرزمین اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھئے:پرفل بلور کا انتباہ: ہندوستان میں ’’خاموش بحران‘‘ شدت اختیار کر رہا ہے
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے جہاز رانی عملی طور پر رک گئی ہے، جو خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے اور اس ناکہ بندی کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔