ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو نے ۲۲؍صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کی وجوہات میں حدنگاہ کم ہونے، موسم سےمتعلق سہولیات کی کمی، طیارہ اڑانے سے متعلق خامیوں اور احتیاطی تدابیر کی کمی کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 02, 2026, 11:00 AM IST | Mumbai
ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو نے ۲۲؍صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کی وجوہات میں حدنگاہ کم ہونے، موسم سےمتعلق سہولیات کی کمی، طیارہ اڑانے سے متعلق خامیوں اور احتیاطی تدابیر کی کمی کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔
ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) نے بارامتی میں اجیت پوار طیارہ حادثہ کی تحقیقات رپورٹ پیش کی جو ۲۲؍صفحات پر مشتمل ہے جس میں حدنگاہ کم ہونے، موسم سے متعلق سہولیات کی کمی، آپریشنل خامیوں اور احتیاطی تدابیر کی کمی کو حادثے کی وجوہات قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اور این سی پی کے صدر اجیت پوار سمیت ۵؍ افراد۲۸؍ جنوری ۲۰۲۶ءکو بارامتی ایئرپورٹ طیارے حادثہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
بارامتی ہوائی اڈہ ایک بےتربیت ہوائی اڈہ ہے
لیئرجیٹ ۴۵؍ ایچ آر طیارہ ۲۸؍جنوری کو صبح ۸؍ بجکر ۴۶؍منٹ پر بارامتی ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ ’جاگرن‘ کی خبر کے مطابق بارامتی ایئرپورٹ مہاراشٹرا ایئرپورٹ ڈیولپمنٹ کمپنی (ایم اے ڈی سی ) کے زیر انتظام ایک بے تربیت ایئرپورٹ ہے۔ ہوائی اڈہ بنیادی طور پر فلائٹ ٹریننگ آپریشنز کیلئے استعمال ہوتا ہے، دو فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز (ایف ٹی اوز) بارامتی میں واقع ہیں۔
دو عارضی اے ٹی سی ٹاورس تھے جن میں سے ہر ایک کوایف ٹی او طلبہ اور انسٹرکٹرس اپنے متعلقہ فلائٹ آپریشنز اوروی آئی پی پروازوں کیلئے چلاتے اور دیکھ ریکھ کرتے تھے۔ ’اے اے آئی بی ‘ کی رپورٹ میں کمیوں کی نشاندہی کی گئی، یہ بتاتے ہوئے کہ ہوائی اڈے میں ونڈ ساکس کے علاوہ کوئی اور نیوی گیشنل سہولت موجود نہیں ہے۔
اس میں کہا گیا کہ ہوائی اڈے پر ۲؍ ونڈ ساکس لگائے گئے تھے، دونوں رن وے۲۹؍ پر۔ رن وے۱۱؍ پر کوئی ونڈ ساکس دستیاب نہیں تھا کیونکہ یہ ایک ٹیبل ٹاپ رن وے ہے۔ رن وے کی آخری بار مارچ۲۰۱۶ء میں مرمت کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے کوئی کام نہیں ہوا جس کے نتیجے میں رن وے کے تمام نشانات مٹ گئے اور چھوٹے چھوٹے پتھر (بجری) سطح پر بکھر گئی۔
ایئرپورٹ کے ارد گرد کوئیحفاظتی دیوار نہیں ہے
ایئرپورٹ کے ارد گرد کوئی حفاظتی دیوار نہیں ہے۔ موجودہ باڑ ناکافی ہے اور پورے ایئرپورٹ کا احاطہ نہیں کرتی۔ رپورٹ میں ممکنہ حفاظتی مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے دن ایف ٹی او کا ایک گراؤنڈ انسٹرکٹر ٹاور پر موجود تھا جو لینڈنگ میں مدد کیلئے ہوائی جہاز کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔ بارامتی کے قریب پہنچتے ہوئے وی ٹی -ایس ایس کے کے عملے نے ’حدنگاہ‘کے بارے میں دریافت کیا جس پر ٹاور نے حدنگاہ کے نشانات کی بنیاد پر۳؍ہزار میٹر کی حدنگاہ کی اطلاع دی۔ مزید برآں لینڈنگ کی اجازت دیتے وقت ٹاور نے ہوا کے پرسکون ہونے کی اطلاع دی۔ اس طرح لینڈنگ کے وقت بارامتی میں ریکارڈ کی گئی حدنگاہ وی ایف آر پرواز کیلئے کم از کم مطلوبہ حدنگاہ (۵؍ہزار میٹر) سے کافی کم تھی۔ اس وقت اس مقام پر موسم کے بارے میں اے اے آئی بی نے انسیٹ ۳ ڈی آر ڈیٹا کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پونے اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کوئی قابل ذکر بادل نظر نہیں آئے تھے۔ تاہم بہت ہلکی دھند ۱۲۰؍ ڈگری کے دائرے میں اور پونے ہوائی اڈے سے۸۱؍ کلومیٹر کے فاصلے تک دیکھی گئی۔
آخری گفتگو
طیارے کے دوسری بار زمین دیکھنے کی اطلاع کے بعد بارامتی ٹاور نے طیارے کو رن وے پر اترنے کیلئے صاف کر دیا۔ ٹاور نے یہ بھی اطلاع دی کہ ہوا پرسکون تھی۔ رن وے کے بائیں جانب گرنے سے پہلے آخری گفتگو یہ سنی گئی’’اوہ ٹ... اوہ شٹ...‘‘۔ ’اے بی پی ماجھا‘ کی خبر کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پائلٹ نے پرواز سے قبل شراب نہیں پی تھی ۔ تاہم بارامتی ہوائی اڈے پر سہولیات ناکافی یا خستہ حال بتائی گئی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیارہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہی مڑ گیا اور زمین سے ٹکرانے سے قبل درختوں سے ٹکرا یا جو رن وے کی سطح سے کم اونچائی پر تھے۔
دونوں فلائٹ ریکارڈرز ’سالیڈا سٹیٹ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایس ایس ایف ڈی آر) اورسالیڈ اسٹیٹ کاک پٹ وائس ریکارڈر(ایس ایس سی وی آر) ہوائی جہاز میں لگنے والی شدید آگ کی وجہ سے خراب ہو گئے تھے جو حادثے کے دوران زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے ہوا تھا۔