اے آئی نے’’ یونیورسل ویکسین‘‘ ڈیزائن کر دی ، اور اس نے انسانی جانچ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیاامید کی جارہی ہے کہ یہ مستقبل کی وباؤں کو روک سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 10:13 PM IST | Washington
اے آئی نے’’ یونیورسل ویکسین‘‘ ڈیزائن کر دی ، اور اس نے انسانی جانچ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیاامید کی جارہی ہے کہ یہ مستقبل کی وباؤں کو روک سکتی ہے۔
کیمبرج اور ساؤتھمپٹن کی یونیورسٹیوں کے محققین نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ایک ’’یونیورسل ویکسین‘‘ وضع کی ہے، جس نے اپنا پہلا انسانی طبی ٹرائل کامیابی سے پاس کر لیا ہے۔ یہ ویکسین کورونا وائرس کی متعدد اقسام کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ ویکسین وسیع تر اور طویل مدتی تحفظ فراہم کر سکتی ہے، اور مسلسل ویکسین اپ ڈیٹ کی ضرورت کے بغیر دنیا کو مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔ بعد ازاں کیمبرج یونیورسٹی اور بائیو ٹیکنالوجی کمپنی کے محققین نے بتایا کہ یہ ایک تجرباتی ویکسین ہے جس نے پہلا انسانی طبی ٹرائل پاس کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سوئزرلینڈ میں آبادی ۱۰؍ملین تک محدود کرنے کی تجویز پر اہم ریفرنڈم
ان کے مطابق، یہ ویکسین محفوظ تھی اور ۳۹؍ صحت مند رضاکاروں پر کیے گئے ٹرائل میں اس کے کوئی سنگین ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے۔محققین کے مطابق، یہ ویکسین وسیع تر ’’ساربی کو وائرس فیملی‘‘ کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے وضعکی گئی ہے۔ اس فیملی میں SARS-CoV-2 (جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے)، SARS، اور چمگادڑوں میں پائے جانے والے متعلقہ کورونا وائرس شامل ہیں جو مستقبل میں انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ یہ نتائج جرنل آف انفیکشن میں شائع ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اگلی دہائی تک ہندوستان کی خلائی صنعت کا حجم ساڑھے تین لاکھ کروڑ تک ہوگا
واضح رہے کہ یہ ویکسین اے آئی کے استعمال سے تیار کی گئی ہے، جو ویکسین کی ترقی کے لیے ایک نیا انداز پیش کرتی ہے۔ محققین نے مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر ماڈلنگ کا استعمال کرتے ہوئے ایک ’’سپر اینٹی جن‘‘ بنایا ہے جو بیک وقت کئی متعلقہ وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے جب کسی ایسی ویکسین کا انسانوں پر تجربہ کیا گیا ہے جس کا فعال جزو مکمل طور پر کمپیوٹر سمیولیشن کے ذریعے وضع کیا گیا ہو۔