مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہاکہ ہندوستان کے خلائی شعبے میں آنے والی یہ تبدیلی ملک بھر میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 9:27 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہاکہ ہندوستان کے خلائی شعبے میں آنے والی یہ تبدیلی ملک بھر میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
مرکزی وزیرِ مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ پالیسی اصلاحات، نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور تیزی سے پھیلتے ہوئے اختراعی نظام کے باعث آئندہ دہائی میں ہندوستان کی خلائی صنعت کا حجم موجودہ ۸؍ تا ۹؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً ۴۰؍ تا۴۵؍ ارب ڈالر (۳ء۳؍ لاکھ کروڑ سے ۷ء۳؍لاکھ کروڑ روپے) تک پہنچنے والا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہندوستان کے خلائی شعبے میں آنے والی یہ تبدیلی ملک بھر میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی لیباریٹریز سے نکل کر قومی شعور کا حصہ بن چکی ہیں۔ حالیہ برسوں کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک سائنس اور معاشرے کے درمیان بڑھتا ہوا تعلق ہے، جس کے نتیجے میں شہری اب خود کو ہندوستان کی سائنسی ترقی کا شراکت دار سمجھنے لگے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ ’’سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آج عام شہری ہندوستان کی سائنسی پیش رفت سے خود کو وابستہ محسوس کرتا ہے اور اس میں اپنا حصہ دیکھتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’کالا ہرن‘‘ تنازع: گووند نام دیو کا دعویٰ، انہیں ’اندھیرے میں رکھا گیا‘
جتیندر سنگھ نے کہا کہ عوامی مباحثوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو جو اہمیت مل رہی ہے، وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس وژن کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت انہوں نے یومِ آزادی کے خطابات کے ذریعے سائنسی بنیادوں پر قائم اقدامات کو مسلسل قومی دھارے کا حصہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچھ بھارت، ڈجیٹل انڈیا، ڈجیٹل ہیلتھ، ڈیپ اوشن مشن اور گگن یان جیسے پروگراموں نے سائنس اور اختراع کو ہندوستان کی ترقیاتی حکمتِ عملی کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ :مانوئل نوئر کیورا ساؤ کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے فِٹ
وزیرِ مملکت نے کہاکہ ’’خلائی تحقیق، جوہری توانائی اور جدید ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے عالمی سطح پر ملک کی حیثیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔‘‘ خلائی شعبے میں اسٹارٹ اپس کی بڑھتی ہوئی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے ہندوستان میں خلائی شعبے سے وابستہ صرف چند اسٹارٹ اپس موجود تھے جبکہ آج ان کی تعداد ۴۰۰؍ سے تجاوز کر چکی ہے، جو ایک متحرک اور تیزی سے ترقی کرنے والے ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔