Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کا نمایاں ہائی پرفارمنس سینٹر آرمی اسپورٹس انسٹی ٹیوٹ کیسے بنا؟

Updated: August 05, 2026, 3:59 PM IST | New Delhi

گلاسگو میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز ۲۰۲۶ء میں ہندوستانی فوج کے باکسرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۸؍ تمغے جیتے، جس کے بعد آرمی اسپورٹس انسٹی ٹیوٹ (اے ایس آئی) کا ہندوستانی باکسنگ میں کردار ایک نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے۔ اولمپک امیدوں سے لے کر کامن ویلتھ چیمپئن تک، یہ ادارہ ایسے کھلاڑی تیار کر رہا ہے جو دنیا کے بہترین حریفوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Gulveer Singh.Photo:X
گل ویرسنگھ۔ تصویر:آئی این این

گلاسگو میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز ۲۰۲۶ء میں ہندوستانی فوج کے باکسرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۸؍ تمغے  جیتے، جس کے بعد  آرمی اسپورٹس انسٹی ٹیوٹ (اے ایس آئی)  کا ہندوستانی باکسنگ میں کردار ایک نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے۔ اولمپک امیدوں سے لے کر کامن ویلتھ چیمپئن تک، یہ ادارہ ایسے کھلاڑی تیار کر رہا ہے جو دنیا کے بہترین حریفوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھپی پڑھئےَ:مائیکل اسمتھ کو دو سال کے لیے پاکستان کا بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا


گلاسگو ۲۰۲۶ ءمیں ہندوستانی فوج کے کھلاڑیوں کی کامیابی صرف تمغوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ برسوں کی سائنسی منصوبہ بندی، مسلسل نظم و ضبط اور اعلیٰ ادارہ جاتی نظام کا نتیجہ ہے۔ اس کامیابی کے مرکز میں  پونے  میں قائم  آرمی اسپورٹس انسٹی ٹیوٹ  ہے، جسے ہندوستان  کا نمایاں فوجی ہائی پرفارمنس سینٹر سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ ملک میں عالمی معیار کے کھلاڑی تیار کرنے والے بہترین مراکز میں شامل ہے۔
صرف کھلاڑی نہیں، چیمپئن تیار کرنے کا مشن
۲۰۰۵ءمیں قائم ہونے والے آرمی اسپورٹس انسٹی ٹیوٹ کا مقصد ہندوستانی فوج کے ایک اہم منصوبے کے تحت کھیلوں میں باصلاحیت نوجوانوں کی شناخت، ان کی تربیت اور انہیں عالمی سطح کا ایتھلیٹ بنانا تھا۔ دو دہائیوں بعد یہ تصور ہندوستان  کے کامیاب ترین ہائی پرفارمنس اسپورٹس ماڈلز میں تبدیل ہو چکا ہے۔
 روایتی تربیتی مراکز کے برعکس،  اے ایس آئی ایک ہی چھت کے نیچے کھلاڑیوں کی ترقی کے تمام پہلوؤں پر کام کرتا ہے۔ یہاں اعلیٰ معیار کی کوچنگ، اسپورٹس سائنس، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ، بایومکینکس، غذائیت، اسپورٹس سائیکالوجی، فزیوتھراپی، ریکوری مینجمنٹ اور پرفارمنس اینالیٹکس کو یکجا کر کے ہر کھلاڑی کی صلاحیت کو نکھارا جاتا ہے۔
باکسنگ میں نمایاں کامیابی
باکسنگ اے ایس آئی  کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شامل ہے۔ ادارے کا  ٹیلنٹ آئیڈینٹیفکیشن پروگرام  ملک بھر سے باصلاحیت نوجوانوں کو منتخب کرتا ہے اور بوائز اینڈ گرلز اسپورٹس کمپنیز  کے ذریعے انہیں منظم انداز میں تربیت دے کر قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کرتا ہے۔ گلاسگو کامن ویلتھ گیمز ۲۰۲۶ء میں فوج کے باکسرز نے مختلف ویٹ کیٹیگریز میں تمغے جیت کر ہندوستان کی تاریخی باکسنگ مہم میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی تکنیکی مہارت، حکمتِ عملی اور ذہنی مضبوطی آرمی کی تربیت کا واضح ثبوت تھی۔ ہندوستانی باکسنگ ٹیم نے مجموعی طور پر ۷؍ طلائی اور ۳؍ چاندی کے تمغے  جیت کر کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے:جعفر جیکسن ول اسمتھ کے ساتھ ایکشن تھرلر ’سپر میکس‘ میں نظرآئیں گے


ہندوستانی فوج کا شاندار مجموعی ریکارڈ
گلاسگو کامن ویلتھ گیمز ۲۰۲۶ء میں ہندوستانی دستے میں فوج کے۲۰؍ کھلاڑیوں  نے حصہ لیا، جن میں سے ۱۶؍ کھلاڑی تمغے جیتنے میں کامیاب  رہے۔ یہ ہندوستان کے مجموعی تمغوں کا تقریباً ۴۱؍ فیصد  ہے۔ فوج کے کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر۸؍ طلائی، ۷؍ چاندی اور ایک کانسہ کا تمغہ  حاصل کیا، جو ہندوستانی فوج کے کھیلوں کے مضبوط نظام اور ہائی پرفارمنس تربیتی ماڈل کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK