• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایچ ایس بی سی کے برطانیہ کے ویلتھ مینجمنٹ کاروبار میں بڑی چھٹنی کا امکان

Updated: October 08, 2026, 8:03 PM IST | London

بینک اپنے اس شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو تیزی سے بڑھانے اور خدمات کو زیادہ مؤثر بنانے کی حکمت عملی کے تحت مالی مشیروں، انتظامی عملے اور ماہرین کی تعداد میں نمایاں کمی کر سکتا ہے۔

Lay Off.Photo:INN
لے آف۔ تصویر:آئی این این

عالمی بینکنگ ادارے  ایچ ایس بی سی  کے برطانیہ میں ویلتھ مینجمنٹ  کاروبار میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک اپنے اس  شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو تیزی سے بڑھانے اور خدمات کو زیادہ مؤثر بنانے کی حکمت عملی کے تحت مالی مشیروں، انتظامی عملے اور ماہرین کی تعداد میں نمایاں کمی کر سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میں بنگلہ دیش مضبوط دعویدار

رپورٹس کے مطابق مجوزہ تنظیم نو کے تحت برطانیہ کے  ویلتھ مینجمنٹ شعبے میں  مالی مشیروں کی تعداد میں تقریباً ۷۰؍ فیصد تک کمی  کی جا سکتی ہے جبکہ انتظامی اور خصوصی نوعیت کے عہدوں میں تقریباً نصف کمی متوقع ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں، کیونکہ بینک اس وقت ملازمین سے مجوزہ تبدیلیوں کے حوالے سے مشاورت کر رہا ہے۔ایچ ایس بی سی کے چیف ایگزیکٹیو  جارجز ایل ہیڈری  نے بینک کے کاروبار میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، اخراجات میں کمی اور کام کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ بینک کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال صارفین کو زیادہ تیزی سے خدمات فراہم کرنے، سرمایہ کاری سے متعلق معلومات تیار کرنے اور ویلتھ مینجمنٹ  کے عمل کو زیادہ ذاتی نوعیت دینے میں مدد دے سکتا ہے۔ 
ایچ ایس بی سی نے رواں سال اپنی حکمت عملی میں بتایا تھا کہ تقریباً ۲؍ لاکھ ملازمین کو اے آئی سے متعلق پیداواری آلات  تک رسائی دی جا چکی ہے  جبکہ بینک مختلف کاروباری عمل میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ ویلتھ مینجمنٹ  میں صارفین سے براہ راست رابطے رکھنے والے ملازمین کو بھی اے آئی آلات فراہم کرنے کا منصوبہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔  
ایچ ایس بی سی اپنے برطانیہ کے ویلتھ مینجمنٹ کاروبار میں ملازمین کی درست تعداد الگ سے ظاہر نہیں کرتا، تاہم رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیکڑوں تعلقات عامہ اور مالی مشاورت سے وابستہ ملازمین اس شعبے میں کام کرتے ہیں۔ مجوزہ تبدیلیوں کے تحت متاثر ہونے والے ملازمین کے اکتوبر کے اختتام تک ادارے سے رخصت ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اگرچہ حتمی فیصلہ مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔   رپورٹس میں اس اقدام کو ایچ ایس بی سی کی لاگت کم کرنے اور کاروباری ڈھانچے کو آسان بنانے کی وسیع تر حکمت عملی سے بھی جوڑا گیا ہے۔ بینک پہلے ہی مختلف انتظامی سطحوں پر غیر ضروری تکرار کم کرنے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:’’ایونجرز: ڈومز ڈے‘‘ نے پیشگی ٹکٹ فروخت میں ۱۰۰؍ ملین ڈالر کا ہندسہ عبور کرلیا

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ایچ ایس بی سی نے اس سے قبل اپنے ویلتھ مینجمنٹ اور نجی بینکاری کاروبار کو وسعت دینے پر توجہ دی تھی۔ اب مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل خدمات کے بڑھتے استعمال کے باعث روایتی مالی مشاورت کے کردار میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی بدلتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ  ڈجیٹل مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ 
ماہرین کے لیے یہ معاملہ اس وسیع تر سوال کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت بینکاری اور مالی خدمات کے شعبے میں ملازمتوں کی نوعیت کو کس حد تک تبدیل کرے گی۔ ایک طرف بینک اے آئی ماہرین اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں، تو دوسری طرف ایسے روایتی عہدے متاثر ہو رہے ہیں جن کے کام کا ایک حصہ خودکار نظام انجام دے سکتے ہیں۔   فی الحال ایچ ایس بی سی کے برطانیہ کے ویلتھ مینجمنٹ  شعبے میں مجوزہ تخفیف کی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔ اس لیے ۷۰؍ فیصد مالی مشیروں اور تقریباً نصف انتظامی و خصوصی عہدوں میں کمی  کو مجوزہ تنظیم نو کے اعداد و شمار کے طور پر دیکھنا چاہیے، حتمی ملازمتوں میں کمی کے طور پر نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK