Updated: October 08, 2026, 8:02 PM IST
| Mumbai
بامبے ہائی کورٹ نے بی ایم سی کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ محض جنوبی ممبئی کی صفائی پور ے شہر کی صفائی نہیں ہے، افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ عوامی مقامات پر صفائی کے انتظامات میں بہت حد تک لاپروائی دیکھنے کو مل رہی ہے ، تاہم عدالت نے افسران کو اس معاملے میں اگلی سماعت سے پہلے خاطر خواہ قدامات کی ہدایت دی ہے۔
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔
بامبےہائی کورٹ نے شہر بھر میں کچرے کی نکاسی کے غیر تسلی بخش اقدامات اور گندگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ محض جنوبی ممبئی کے کچھ حصوں میں صفائی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پورے شہر میں اسی طرح کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ جسٹس گریش ایس کلکرنی اور جسٹس نیلا کے گوکھلے پر مشتمل بنچ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ـ’’ہر طرف گندگی پھیلی ہوئی ہے، صرف اس لئے کہ ورلی صاف ہے، جنوبی ممبئی صاف ہے یا نریمن پوائنٹ صاف ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پورا ممبئی صاف ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مضافات کے مختلف علاقوں میں پولیس کے چھاپے، ۱۰؍فرضی ڈاکٹروں پر کیس درج
دریں اثناء ہائی کورٹ میں کانجور مارگ لینڈ فل (کچرا ڈمپنگ گراؤنڈ) میں کچرے کی تلفی کے علاوہ شہر کی سڑکوں اور ساحلوں پر کچرا پھینکنے سے متعلق تحفظات پر دائر ایک درخواست کی سماعت جاری ہے، سماعت کے دوران جسٹس کلکرنی نے نظام میں اصلاح اور شہریوں میں بیداری پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ایک بار جب پورا نظام فعال ہو جائے گا اور شہریوں کو بھی بیدار کیا جائے گا تو وہ دن آئے گا جب لوگ سڑکوں پر کچرا پھینکنا بند کر دیں گے۔ ہم ممبئی کو ایک ایسا شہر بنتے دیکھنا چاہتے ہیں جہاں لوگ خود جا کر کچرا ،کوڑے دان میں ڈالیں۔ ایسا بیرونِ ملک جانے پر ممکن ہوتا ہے کیونکہ وہاں سختی اور کیمرے ہوتے ہیں، لیکن یہاں ممبئی میں کسی کو کوئی پروا ہی نہیں ہے۔‘‘
بعد ازاں بی ایم سی کی طرف سے پیش ہونے والے سینیئر ایڈووکیٹ انل سکھارے نے دعویٰ کیا کہ ’’صورتحال میں بہتری آئی ہے‘‘، لیکن عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ عوامی مقامات، پہاڑی ڈھلانوں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں کو درست کرنے میں بی ایم سی کے وارڈ افسران کی طرف سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔ تاہم ہائی کورٹ نے ایک جامع حلف نامہ طلب کیا ہے جس میں زمینی سطح پر ’’اصل صورتحال‘‘ کا جائزہ لینے کیلئے وارڈ افسران کے اٹھائے گئے اقدامات اور گاندھی جینتی کے موقع پر سوچھتا ابھیان کے تحت کئے گئے کاموں کی تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایف ڈی اے کی کوپراسپتال کینٹین اور اے پی ایم سی فروٹ مارکیٹ پر کارروائی
مزید برآں عدالت کے ججوں نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ، بھائندر میں واقع مہاراشٹر جوڈیشل اکیڈمی جاتے ہوئے انہوں نے جوگیشوری میں ایک میونسپل اسکول کے قریب پلاسٹک کے کچرے سے بھری ایک پہاڑی دیکھی۔ اس پر جسٹس کلکرنی نے فوری اصلاحی تدابیر کی ہدایت کرتے ہوئے کہا، ’’کیا ہم یقین کر سکتے ہیں کہ یہ ممبئی ہے؟ اس کی معمولی صفائی میں ایک دن سے زیادہ کا وقت نہیں لگے گا، لیکن کچھ نہیں کیا گیا۔ یہ نا قابلِ یقین ہے۔‘‘
علاوہ ازیں بنچ نے اشارہ دیا کہ وہ مغربی مضافاتی علاقوں کے کچھ وارڈ افسران کو سماعت کے دوران طلب کر سکتی ہے، کیونکہ ان کے علاقوں میں کچرے کے انتظام کے حوالے سے شدید بدنظمی ہے۔ مزید برآں، ججوں نے کہا کہ وہ جلد ہی کانجور مارگ لینڈ فل سائٹ کا دوسرا معائنہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت ۲۲؍ اکتوبر کو ہونے والی اگلی سماعت کے دوران اس ڈمپنگ گراؤنڈ سے نکلنے والی بدبو اور ماحولیاتی آلودگی کی شکایتوں کے ازالے پر بھی دلائل سنے گی۔