ویب سیریز ’’مرزا پور‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ شویتا ترپاٹھی نے اپنی جڑوں اور اتر پردیش سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندگی میں مختلف شہروں میں رہی ہیں، لیکن ان کی شناخت اتر پردیش کی بیٹی کے طور پر ہے۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai
ویب سیریز ’’مرزا پور‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ شویتا ترپاٹھی نے اپنی جڑوں اور اتر پردیش سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندگی میں مختلف شہروں میں رہی ہیں، لیکن ان کی شناخت اتر پردیش کی بیٹی کے طور پر ہے۔
ویب سیریز ’’مرزا پور‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ شویتا ترپاٹھی نے اپنی جڑوں اور اتر پردیش سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندگی میں مختلف شہروں میں رہی ہیں، لیکن ان کی شناخت اتر پردیش کی بیٹی کے طور پر ہے۔ اداکارہ کا یہ بیان ان کی علاقائی شناخت، خاندانی پس منظر اور اپنی جائے پیدائش و آبائی ریاست سے جذباتی تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ْرونالڈو کے ۹۸۲؍ویں گول پر تنازع، کیا گیند حریف کھلاڑی سے ٹکرا کر جال میں گئی؟
شویتا ترپاٹھی ہندوستانی تفریحی دنیا کی ان اداکاراؤں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی منفرد اداکاری اور مختلف نوعیت کے کرداروں کے ذریعے ناظرین میں شناخت بنائی ہے۔ ویب سیریز ’’مرزا پور‘‘ میں گولو گپتا کے کردار نے انہیں خاصی مقبولیت دلائی۔ اس کردار میں ان کی اداکاری کو پسند کیا گیا اور وہ نوجوان ناظرین کے درمیان بھی نمایاں ہوئیں۔شویتا ترپاٹھی کی پیدائش نئی دہلی میں ہوئی، لیکن وہ خود کو اتر پردیش سے وابستہ سمجھتی ہیں۔ ان کی والدہ کا تعلق لکھنؤ سے ہے، جبکہ ان کے والد ہردوئی ضلع کے سندیلا علاقے کے رام مدرپور گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔شویتا کے مطابق، ان کے والد نے بھارتی انتظامی خدمات میں افسر بننے سے پہلے لکھنؤ میں استاد کی حیثیت سے بھی کام کیا تھا۔ والد کے ساتھ مختلف شہروں میں رہنے اور سفر کرنے کے باوجود اتر پردیش سے ان کا جذباتی رشتہ برقرار ہے۔ اداکارہ نے لکھنؤ کے حالیہ دورے کے دوران بچپن کی کئی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کا ہر دورہ انہیں ماضی کی یادوں میں لے جاتا ہے۔ انہیں اپنے نانا کی جانب سے ملنے والے پانچ روپے آج بھی یاد ہیں، جن کی اس زمانے میں بہت قدر ہوتی تھی اور ان کے ساتھ نانا کی محبت بھی وابستہ تھی۔
شویتا نے اپنی پسندیدہ مشروب گولڈ اسپاٹ، رکشے یا اسکوٹی پر حضرت گنج جانے اور روورس میں کھانے کے لیے نکلنے کے واقعات بھی یاد کیے۔ کھانے پینے کی شوقین اداکارہ کے مطابق، لکھنؤ کی چاٹ اور کباب ان کی پسندیدہ چیزوں میں شامل رہے ہیں۔ ان یادوں میں بچپن کی سادگی اور شہر کی مخصوص تہذیب کی جھلک نظر آتی ہے۔ شویتا نے لکھنؤ میں گزارے ہوئے چھٹیوں کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں گرمیوں میں شدید درجۂ حرارت اور گرم ہواؤں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جبکہ سردیوں میں سخت ٹھنڈ محسوس ہوتی تھی۔ اس کے باوجود بچپن کی ان یادوں میں تہواروں کی خوشیاں نمایاں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے نے خاتون مرکزی کردار والی فلموں کے نہ چلنے پر سوال اٹھائے
فیشن میں دلچسپی رکھنے والی شویتا ترپاٹھی نے لکھنؤ کی مشہور چکن کاری کے لباسوں کے لیے اپنی پسندیدگی کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی الماری میں چکن کاری کے کئی ملبوسات موجود ہیں، جنہیں وہ اکثر پہنتی ہیں۔ ان کے مطابق، کچھ شہروں کے ساتھ انسان کا رشتہ ایسا ہوتا ہے جس کی وضاحت کرنا آسان نہیں ہوتا، اور لکھنؤ بھی ان کے لیے ایسا ہی شہر ہے جہاں جانے کا دل بار بار چاہتا ہے۔ اداکارہ نے اپنے ساتھی فنکار علی فضل کے ساتھ خصوصی تعلق کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، علی فضل جس محبت اور خلوص کے ساتھ لوگوں کی میزبانی کرتے ہیں، وہ بہت خاص ہے۔ یہ تعلق بھی لکھنؤ کے ساتھ ان کی وابستگی کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
شویتا ترپاٹھی کا لکھنؤ سے تعلق صرف ذاتی یادوں اور خاندانی وابستگی تک محدود نہیں، بلکہ ان کے پیشہ ورانہ سفر میں بھی اس شہر کی اہمیت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں کئی فلموں اور ویب سیریز کی شوٹنگ کر چکی ہیں۔ ان کے کاموں میں ’’مرزا پور‘‘ کے مختلف سیزن، فلم ’’رات اکیلی ہے‘‘ (۲۰۲۰ء) اور’ ’کنجوس مکھّی چوس‘‘ ( ۲۰۲۳ء) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ خواتین کی کرکٹ لیگ کی ٹیم یوپی واریئرز کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔ شوئیتا کے مطابق، شوٹنگ کے علاوہ وہ تشہیری سرگرمیوں، مباحثوں اور دیگر تقریبات کے لیے بھی لکھنؤ آتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ اعتبار سے بھی لکھنؤ انہیں بار بار اپنی جانب بلاتا ہے۔