Updated: October 25, 2026, 10:01 PM IST
| London
انگلینڈ کے عظیم فاسٹ بولر سر جیمز اینڈرسن کی اپنے بچپن کے پسندیدہ کاؤنٹی کلب لنکاشائر کے ساتھ ۲۵؍ سالہ رفاقت ختم ہونے جارہی ہے۔ لنکاشائر کرکٹ کلب نے فیصلہ کیا ہے کہ اینڈرسن کے موجودہ معاہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد اسے ۲۰۲۷ء کے سیزن کے لیے تجدید نہیں کیا جائے گا۔
جیمس اینڈرسن۔ تصویر:آئی این این
انگلینڈ کے عظیم فاسٹ بولر سر جیمز اینڈرسن کی اپنے بچپن کے پسندیدہ کاؤنٹی کلب لنکاشائر کے ساتھ ۲۵؍ سالہ رفاقت ختم ہونے جارہی ہے۔ لنکاشائر کرکٹ کلب نے فیصلہ کیا ہے کہ اینڈرسن کے موجودہ معاہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد اسے ۲۰۲۷ء کے سیزن کے لیے تجدید نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ انگلینڈ کے اس ریکارڈ ساز گیند باز کا اپنے آبائی کاؤنٹی کلب کے ساتھ طویل سفر اختتام پذیر ہوجائے گا۔ اینڈرسن نے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو ان کا لنکاشائر سے رخصت ہونے کا انداز ایسا نہ ہوتا۔
لنکاشائر کے آنے والے ڈائریکٹر آف کرکٹ پال فاربریس نے بتایا کہ کلب انتظامیہ نے ۱۹؍ اکتوبر کو امارات اولڈ ٹریفورڈ میں اینڈرسن اور چیف ایگزیکٹو رچرڈ کینیون کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ اسی ملاقات میں اینڈرسن کو بتایا گیا کہ کلب ان کے معاہدے میں مزید توسیع نہیں کرے گا۔ کلب انتظامیہ کے مطابق، یہ فیصلہ مردوں کی ٹیم کی ازسرنو تشکیل کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔ لنکاشائر اس وقت کاؤنٹی چیمپئن شپ کے دوسرے ڈویژن میں ہے اور انتظامیہ کا مقصد پہلے ڈویژن ون میں ترقی حاصل کرنا اور پھر آئندہ تین سے چار برس میں خطاب جیتنے کے لیے مضبوط ٹیم تیار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:باسل ٹینس ٹورنامنٹ: جوکووچ اور شیلٹن ایک ہی ڈرا میں، واورِنکا کا مقابلہ لیہیکا سے
پال فاربریس نے اینڈرسن کی صلاحیتوں اور کلب کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ لنکاشائر اور انگلینڈ کے بہترین گیند بازوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اینڈرسن کی مہارت، مقابلہ کرنے کے جذبے اور ٹیم کے ماحول میں اعلیٰ معیار قائم رکھنے کی لگن کی تعریف بھی کی۔ ۴۴؍ سالہ جیمز اینڈرسن نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لنکاشائر کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے اس کلب کی حمایت کرتے آئے ہیں اور ۲۵؍ سال تک اس کی نمائندگی کرنا ان کے لیے ایک خواب کی تعبیر تھی۔ انہوں نے کہا کہ اولڈ ٹریفورڈ کے میدان میں لنکاشائر کی جانب سے کھیلنے کے لیے اترنا ہمیشہ ان کے لیے خاص رہا ہے۔ اس کلب کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے بے شمار یادگار لمحات گزارے، جن میں ٹیم کی قیادت کرنا بھی شامل ہے۔
اینڈرسن نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو ان کا سفر اس انداز میں ختم نہ ہوتا، تاہم انہوں نے کلب کے کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لنکاشائر کے ساتھ اپنی وابستگی جاری رکھنا چاہتے تھے۔ تاہم، انہوں نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کسی دوسرے کاؤنٹی کلب کی جانب سے کھیلیں گے یا کرکٹ سے مکمل طور پر ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔ اینڈرسن کے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کے فیصلے نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی ہے کہ انہوں نے ۲۰۲۶ء کے سیزن میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ پہلی مرتبہ لنکاشائر کی ریڈ بال ٹیم کے کپتان مقرر ہوئے تھے اور کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ۵۰؍ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے یہ وکٹیں اوسطاً۶۸ء۱۷؍ رنز فی وکٹ کی شرح سے حاصل کیں اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لنکاشائر کے چیمپئن شپ پلیئر آف دی ایئر بھی قرار پائے۔ اس کے باوجود لنکاشائر کی ٹیم چیمپئن شپ کے دوسرے ڈویژن میں آٹھ ٹیموں کے درمیان ساتویں مقام پر رہی۔ کلب انتظامیہ نے ٹیم کی مجموعی کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہما قریشی کا اداکاری، روایتی تصورات کو توڑنے اور فلمی صنعت کے چیلنجز پر اظہارِ خیال
جیمز اینڈرسن نے۲۰۰۱ء میں لنکاشائر کے لیے اپنا ڈیبیو کیا تھا۔ برنلے میں پیدا ہونے والے اس فاسٹ بولر نے تقریباً ڈھائی دہائیوں تک کلب کی نمائندگی کرتے ہوئے کئی اہم سنگ میل عبور کیے۔بین الاقوامی کرکٹ میں بھی جیمز اینڈرسن کا ریکارڈ غیر معمولی رہا ہے۔ وہ انگلینڈ کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز ہیں۔ انہوں نے ۱۸۸؍ ٹیسٹ میچوں میں ۷۰۴؍ وکٹیں حاصل کیں اور تیز گیند بازوں میں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب بولر بنے۔ان کے بین الاقوامی ریکارڈ میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں ۱۹۴؍ میچوں کے دوران ۲۶۹؍ وکٹیں اور ٹی ۲۰؍ بین الاقوامی مقابلوں میں ۱۹؍ میچوں کے دوران ۱۸؍ وکٹیں شامل ہیں۔ اینڈرسن نے جولائی ۲۰۲۴ء میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تھی۔ اس کے بعد بھی وہ لنکاشائر کی جانب سے کھیلتے رہے اور ۲۰۲۶ء میں ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ کرکٹ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں ۲۰۲۵ء میں انہیں برطانیہ کے اعزازِ شہریت ’نائٹ ہُڈ‘ سے نوازا گیا، جس کے بعد ان کے نام کے ساتھ سر کا خطاب شامل ہوگیا۔