’’۱۰۰؍ سیٹوں کی لُوٹ‘‘ کے الزام کی تائید کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لگاتار تیسرے دن مودی سرکار کو نشانہ بنایا، اداروں کو جیب میں رکھنے کا الزام لگایا مگر کہا:’’وہ خود بھی ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہیں‘‘
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 12:16 AM IST | New Delhi
’’۱۰۰؍ سیٹوں کی لُوٹ‘‘ کے الزام کی تائید کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لگاتار تیسرے دن مودی سرکار کو نشانہ بنایا، اداروں کو جیب میں رکھنے کا الزام لگایا مگر کہا:’’وہ خود بھی ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہیں‘‘
آسام اور مغربی بنگال میں ’’الیکشن چوری‘‘ کے حوالے سے مودی سرکار اور بی جےپی کو لگاتار تیسرے دن آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کو الزام لگایا کہ زعفرانی پارٹی کا ہر چھٹا ایم پی ’’ووٹ چوری‘‘ سے جیتا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ ایسے اراکین پارلیمان کو ’’گھس پیٹھیا‘‘ کیوں نہ کہا جائے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر آج منصفانہ الیکشن ہو جائیں تو بی جےپی ۱۴۰؍ سیٹیں بھی نہیں جیت سکتی۔
واضح رہے کہ راہل گاندھی نے پیر کو انتخابی نتائج کے اعلان کےفوراً بعد ممتا بنرجی کے اس الزام کی تائید کی کہ بنگال میں ’’۱۰۰؍ سیٹیں لوٹ لی گئی‘‘ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آسام میں بھی الیکشن چوری کا الزام لگایا۔ منگل کو انہوں نے ممتا کی ہار پر خوش ہونےوالے اپنی پارٹی کارکنوں کو ’’اوچھی سیاست‘‘ سے باز آجانے کی تلقین کی اور بدھ کو پھر ایکس پوسٹ کے ذریعہ مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ووٹ چوری کے ذریعے کبھی انفرادی نشستیں چرائی جاتی ہیں اور کبھی پوری حکومت۔ لوک سبھا میں بی جے پی کے۲۴۰؍ اراکین پارلیمان میں سے تقریباً ہر چھٹا رکن ووٹ چوری کے ذریعے کامیاب ہوا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’انہیں پہچاننا مشکل نہیں ہے، کیا ہمیں بی جے پی کی ہی زبان میں انہیں’گھس پیٹھیا‘ کہنا چاہیے؟ اور ہریانہ کا کیا؟ وہاں تو پوری حکومت ہی’گھس پیٹھیا‘ ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پرسرکاری قبضہ کے حوالے سے مودی سرکار کو نشانہ بنایا، انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ وہ اداروں کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں، انہیں وہ ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ خود ’ ریموٹ کنٹرول‘ سے چل رہے ہیں۔‘‘ سمجھا جارہاہے کہ راہل گاندھی نے وزیراعظم مودی کو نشانہ بنایا ہے جن پر ٹرمپ کے اشاروں پر چلنے کا الزام وہ کئی بار لگاچکے ہیں۔