Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کی شکست اور بی جےپی کی کامیابی کی پانچ اہم وجوہات

Updated: May 06, 2026, 8:14 AM IST | Kolkata

مغربی بنگال کے انتخابی نتائج آنے کے بعد اب اس پر تجزیے آنے لگے ہیں۔ ترنمول کانگریس کی شکست اور بی جے پی کی جیت کو الگ الگ زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش معروف انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف ‘نے بھی کی ہے۔ اس نے اس نتیجے کے پانچ عوامل بتائے ہیں جو یہاں پیش کئے جا رہے ہیں۔

BJP supporters rally on the streets of Bengal after victory
جیت کے بعد بنگال کی سڑکوں پر بی جے پی حامیوں کی ریلی

مغربی بنگال  کے انتخابی نتائج آنے کے بعد اب اس پر تجزیے آنے لگے ہیں۔ ترنمول کانگریس کی شکست اور بی جے پی کی جیت کو الگ الگ زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش معروف انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف ‘نے بھی کی ہے۔ اس نے اس نتیجے کے پانچ عوامل بتائے ہیں جو یہاں پیش کئے جا رہے ہیں۔ 
 اقتدار مخالف رجحان اوربدعنوانی کے الزامات
 ۱۵؍ سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد ممتا بنرجی کی قیادت میں حکومت کا سیاسی سفر،ابتدائی ترقیاتی رفتار سے لے کر بعد کے تنازعات تک، مختلف مراحل سے گزرا۔ اپنی پہلی مدت میں ترنمول کانگریس نے کسی حد تک۱۹۷۷ء میں برسراقتدار آنے والے لیفٹ فرنٹ کے ابتدائی دور کی جھلک پیش کی۔ توجہ دیہی ترقی پر مرکوز رہی۔ ریاست کے دور دراز علاقوں میں بنیادی ڈھانچےسڑکوں، پلوں اور دیگر سہولیات میں بہتری واضح نظر آنے لگی،یہاں تک کہ کولکاتا بھی زیادہ صاف ستھرا ہوگیا۔۲۰۱۰ء کی دہائی کے وسط تک ترنمول کانگریس کولکاتا تک محدود ایک جماعت سے نکل کر پورے بنگال میں مضبوط عوامی بنیاد رکھنے والی پارٹی بن چکی تھی لیکن پھر یہیں سے زوال کا آغاز ہوا۔شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ اور ناردا اسٹنگ آپریشن سے شبیہ متاثر ہوئی اور پھر’سنڈیکیٹ راج‘ اور’ بھتہ خوری‘ کے مسلسل الزامات نے اسے مزید نمایاں کیا۔اس کے بعداساتذہ بھرتی گھوٹالہ، راشن اسکیم میں بدعنوانی، میونسپل بھرتیوں میں بے ضابطگیاں اور کوئلہ و مویشی اسمگلنگ جیسے الزامات نے اس کی شبیہ کو داغدار کیا۔ اس الیکشن میں اس کے واضح اثرات نظر آئے۔
 خوشامد اور پولرائزیشن کی سیاست
  ممتا بنرجی نے۲۰۱۹ء کے پارلیمانی انتخابات میں ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’ میںاس گائے کی لات بھی کھانے کو تیار ہوں جو دودھ دیتی ہے‘‘ بی جے پی نے اسے اقلیتوں کی خوشامد کے طورپر پیش کیا اور اس کے بعد اس نے پولرائزیشن کا جو کھیل کھیلا، وہ ممتا کیلئے کافی نقصاندہ ثابت ہوا۔ بی جے پی کی یہ تقسیم کی سیاست بنگال میں  خاصی مقبول ہوئی۔
 بی جے پی نے اقلیتوں کی خوشامد کے الزامات کو بنیاد بنا کر اپنی مہم تیز کی۔ اسی دوران کئی علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات بھی پیش آئے، جنہوں نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ بی جے پی کی اس مہم سے نمٹنے کیلئے ترنمول نے  مندروں کی تعمیر (جگن ناتھ مندر، درگا آنگن) کی سیاست  شروع کی لیکن جیسا کہ ارون جیٹلی نے ایک بار کہا تھا کہ ’’جب آپ کے پاس اے ٹیم ہو تو بی ٹیم کی کیا ضرورت؟‘‘ یہ حربہ ترنمول کے کام نہیں آسکا، اس سے نہ  اکثریتی طبقہ خوش ہوا، نہ ہی اقلیتی۔ 
 خواتین ووٹرز
 ترنمول کانگریس نے لکشمی بھنڈار جیسی فلاحی اسکیموں کے ذریعے خواتین ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی رہی۔ امداد کی رقم میں وقتاً فوقتاً اضافہ اس کی مقبولیت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوا لیکن اسی دوران بی جے پی نے ’اناپورنا بھنڈار‘ جیسی اسکیموں کااعلان کرکےخواتین کو اپنے پالے میں کرنے کی کوشش کی۔اس کے علاوہ آر جی کر عصمت دری اور قتل کیس  جیسے واقعات نےخواتین کو ترنمول کے تئیں متنفر کیا۔بی جے پی نے اس موقع کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا۔
 بی جے پی کی حکمت عملی میں تبدیلی
 بی جے پی نے اپنی مہم’خوف بمقابلہ اعتماد‘، ’ظالم حکومت‘ اور’تبدیلی ضروری ہے‘ جیسے نعروں پر مرکوز رکھی۔ پارٹی نے ’باہر سے آئی جماعت‘ کے تاثر کو ختم کرنے کیلئے اس مرتبہ رابندرناتھ ٹیگور اور قاضی نذرالاسلام کا حوالہ دیا اور خود کو مقامی ثقافت سے ہم آہنگ دکھانے کیلئےاس کے لیڈروں نے کیمروں کے سامنے مچھلیاں کھائیں۔
 ایس آئی آراور مرکزی فورسیز کااستعمال
  بی جے پی اور سی پی ایم جیسی منظم جماعتوں کے مقابلے میں،ترنمول کانگریس اپنی روایتی تنظیمی طاقت کے بغیر کمزور دکھائی دی۔ انتخابات سے قبل آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کے تبادلوں اور مرکزی فورسیز کی تعیناتی نے مقامی آبادی میں دہشت پیدا کیاجس کی وجہ سے  مقامی بااثر افراد روپوش ہو گئے۔اسی طرح ووٹنگ لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے دوران  بہت سارے نام کاٹ دیئے گئے جس کی وجہ سے کئی ماہرین کے مطابق  ترنمول کانگریس کو بڑا نقصان ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK