کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو مہاراشٹر کے لیڈران کی بھر پور حمایت، شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کے بعد منوج جرنگے بھی جنتر منتر پہنچے، طلبہ کو جگہ نہ چھوڑنے کی تلقین
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 8:27 AM IST | Mumbai
کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو مہاراشٹر کے لیڈران کی بھر پور حمایت، شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کے بعد منوج جرنگے بھی جنتر منتر پہنچے، طلبہ کو جگہ نہ چھوڑنے کی تلقین
دہلی کے جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو مہاراشٹر کے لیڈرا کی بھر پور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ ایک روز قبل معمر لیڈر شرد پوار ابھیجیت دپکے سے ملنے جنتر منتر پہنچے تھے ۔ اس کے بعد شیوسینا (ادھو) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے بھی طلبہ کی حمایت کیلئے جنتر منتر پر حاضر ہوئے۔ ادھو ٹھاکرے نےمظاہرین سے خطاب بھی کیا۔ بدھ کو مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے نے بھی دہلی پہنچ کر طلبہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے حکومت کو وارننگ دی کہ اگر طلبہ پر پھر حملہ ہوا تو وہ بی جے پی لیڈران کا مہاراشٹر میں چلنا پھرنا مشکل کر دیں گے۔ ‘‘
کچھ عرصہ پہلے مراٹھا ریزرویشن کی تحریک چھیڑ کر مہاراشٹر حکومت کی ناک میں دم کرنے والے منوج جرنگے نے بدھ کےروز دہلی کے جنتر منتر پہنچ کر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے سے ملاقات کی ۔ انہوں نے طلبہ سے مراٹھی میں خطاب بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا ’’ آپ لوگ کسی قیمت پر اس جگہ کو مت چھوڑیئے، اگر آپ اس جگہ سے اٹھ گئے تو حکومت آپ کے احتجاج کو ختم کر دے گی۔ طلبہ کو انصاف ملے اسی کیلئے میں یہاں آیا ہوں۔ جرنگے نے کہا ’’ بی جےپی حکومت ہر بار غریبوں کے بچوں پر ظلم کرتی ہے۔ میں حکومت کو وارننگ دیتا ہوں کے اس کے بعد اگر طلبہ پر حملہ ہوا تو ہم ان لوگوںکو مہاراشٹر میں چلنا پھرنا دوبھر کر دیں گے۔ ان کا نشہ اتارے بغیر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ‘‘ انہوں نے یاد دلایا کہ ’’ ہم نے بھی انتراولی سراتی (جالنہ) میں احتجاج کیا تھا۔ اس وقت بھی حکومت نے ہمارے ساتھ زور زبردستی کی تھی۔ ہمارے بچوں پر ماں بہنوں پر گولیاں چلائی تھیں۔ میری طلبہ سے ایک ہی گزارش ہے کہ آپ یہ جگہ نہ چھوڑیں ، اگر آپ یہاں سے اٹھ کر کہیں اور چلے گئے تو حکومت یہ احتجاج ختم کروا دے گی۔ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہے آپ کوڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘
کیا حکومت میں کوئی پاکستانی شامل ہے؟
ایک روز قبل شیوسینا (ادھو) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے بھی جنتر منتر گئے تھے۔ وہاں انہوں نے ابھیجیت دپکے سے ملاقات کی۔ دپکے انہیں ہاتھ پکڑ کر اسیٹج پر لے گئے۔ ادھو نے طلبہ سے خطاب کیا۔ وہاں سے لوٹنے کے بعد بدھ کےروز ادھو ٹھاکرے نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’ شیوسینا پہلے دن سے طلبہ کے پیچھے مضبوطی سے کھڑی ہے۔ اس حکومت کا طلبہ کے ساتھ رویہ انتہائی توبرا اور توہین آمیز ہے۔ برسراقتدار لوگوں کے ذہن میں اقتدار اور غرور کی ہوا بھر گئی ہے لیکن عوام انہیں مناسب وقت پر زمین پر لا کر رہیں گے۔‘‘ ادھو ٹھاکرے نے کہا ’’ کوئی بھی جب احتجاج کرتا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس سے بات کرے۔ اگر احتجاج کرنے والا کچھ غلط کرتا ہے تب بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسے سمجھا بجھا کر ایسا کرنے سے باز رکھے لیکن حکومت نے وقت رہتے طلبہ سے گفتگو نہیں کی۔ اگر حکومت نے پہلے ہی طلبہ سے بات کرلی ہوتی تو حالات اس قدر خراب نہیں ہوتے۔‘‘ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ حکومت کو طلبہ سے بات کرنے میں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے۔ وہ خود ہی ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ طلبہ کے احتجاج کو بدنام کرنے کیلئے اس میں ’پاکستان کا ہاتھ‘ ڈھونڈا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہی میں کوئی پاکستانی شامل ہے جو حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ‘‘
یاد رہے کہ راج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس نے بدھ کو ممبئی میں طلبہ کی حمایت میں احتجاج کیا جبکہ پرکاش امبیڈکر کی پارٹی ونچت بہوجن اگھاڑی نے آج ( جمعرات) کو مہاراشٹر بند کا اعلان کر رکھا ہے جسے مختلف حلقوں سے حمایت مل رہی ہے۔ بی جے پی کوچھوڑ کرمہاراشٹر کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے کاکروچ جنتا پارٹی اور اس کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے الزام لگایا ہے کہ دہلی میں جاری احتجاج کو بعض عناصر اپنا الو سیدھا کرنےکیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے کا حق ہر کسی کو ہے لیکن احتجاج میں تشدد کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ یاد رہے کہ دہلی میں مظاہرین کی بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے اور کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔ این ڈی اے کے کئی حلیف بھی طلبہ کی حمایت میں بیان جاری کر چکے ہیں۔