ہریانہ میں کانگریس کو بالادستی، عالمی شہرت یافتہ پہلوان ونیش پھوگاٹ اور بجرنگ پونیا پارٹی میں شامل، اسمبلی انتخاب میں کانگریس کے اُمیدوار ہونگے؟
EPAPER
Updated: September 07, 2024, 6:46 AM IST | Chandigarh
ہریانہ میں کانگریس کو بالادستی، عالمی شہرت یافتہ پہلوان ونیش پھوگاٹ اور بجرنگ پونیا پارٹی میں شامل، اسمبلی انتخاب میں کانگریس کے اُمیدوار ہونگے؟
عالمی شہرت یافتہ خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ اور ان کے ساتھی مرد پہلوان بجرنگ پونیا نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ہریانہ اسمبلی انتخاب سے عین قبل ان دونوں کھلاڑیوں کی کانگریس میں شمولیت سے پارٹی کو بالادستی حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ونیش پھوگاٹ نے کافی جذباتی انداز میںگفتگو کی ۔ انہوں نے پارٹی میں شامل کرنے کے لئے کانگریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’’برے وقت میں پتہ چلتا ہے کہ اپنا کون ہے۔ کانگریس نے ہر قدم پر ساتھ دیا اور ہمارا حوصلہ بڑھایا۔ کانگریس کے اعلیٰ لیڈران راہل گاندھی ، ملکارجن کھرگے اور پرینکا گاندھی کی شکر گزار ہوں کہ اس وقت جب ہمیں دہلی کی سڑکوں پر گھسیٹا جارہا تھا ، ہمارے کردار پر انگلی اٹھائی جارہی تھی اور ہماری سچائی کو دبانے کی کوشش کی جارہی تھی اس وقت بھی کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈر ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔‘‘ ونیش نے مزید کہا کہ اسی لئے جب ہمیں کانگریس میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی تو ہم انکار نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایک ایسی پارٹی اور ایسے نظریہ سے جڑی ہوں جو خواتین پر ہو رہے مظالم اور ناانصافی کے خلاف کھڑی ہے اور سڑک سے پارلیمنٹ تک ان کے حق کی لڑائی لڑرہی ہے ۔
واضح رہے کہ باضابطہ طور پر کانگریس میں شمولیت سے قبل ونیش پھوگاٹ اور بجرنگ پونیا کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش پر پہنچے تھے۔ وہاں کے سی وینوگوپال بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں باضابطہ طور پر ونیش اور پونیا کی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا گیا ۔
بجرنگ پونیا نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور اس کی آئی ٹی سیل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی آئی ٹی سیل آج کہہ رہی ہے کہ ہمارا مقصد تو سیاست کرنا تھا، لیکن جب ہم مظاہرہ کر رہے تھے تب بی جے پی کو چھوڑ کر باقی سبھی پارٹیاں ہمارے ساتھ تھیں۔ جب ونیش فائنل میں گئی تب پورا ملک خوش تھا، لیکن اگلے دن جو حادثہ ہوا اس کے بعد ایک آئی ٹیل سیل ہی خوش دکھائی دے رہی تھی۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ونیش پھوگاٹ اور بجرنگ پونیا نے کانگریس میں شامل ہونے سے قبل ریلوے کی اپنی ملازمت سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا اور خود اس کی معلومات پریس کانفرنس میں دی ۔ حالانکہ اس دوران ونیش کی راہل گاندھی سے ملاقات پر تنازع پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ریلوے نے انہیں نوٹس جاری کردیا ہے جس میں انہیں فوراً کام پر لوٹنے اور اس ملاقات کی وجہ بتانے کو کہا گیا ہے۔ پارٹی لیڈر کے سی وینو گوپال نے اس تعلق سے پریس کانفرنس میں دونوں ہی پہلوانوں کا استقبال کرتے ہوئے ریلوے کے نوٹس کا بھی انکشاف کیا ۔انہوں نے سوال پوچھا کہ کیا ملک کی پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر سے ملنا غیر قانونی ہے۔ ہماری اپیل ہے کہ ریلوے اور حکومت اس معاملے میں سیاست نہ کریں اور دونوں ہی پہلوانوں کے استعفے قبول کریں۔ کے سی وینو گوپال نے واضح کیا کہ ونیش پھوگاٹ کے الیکشن لڑنے کے تعلق سے پارٹی جلد ہی فیصلہ کرے گی۔