کانگریس نے فیصلے پر فوری روک لگانے اور جےپی سی جانچ کی مانگ کی۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 10:56 AM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi
کانگریس نے فیصلے پر فوری روک لگانے اور جےپی سی جانچ کی مانگ کی۔
کانگریس نے سرکاری بینک’ آئی ڈی بی آئی‘ کو غیر ملکی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرنے کے سودے کو مودی سرکار کا ’’نیا بڑا گھوٹالہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس سودے پر فوری روک اور جے پی سی جانچ کی مانگ کی ہے۔ پارٹی نے نشاندہی کی کہ جس کمپنی کو بینک کو بیچنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اس کے ذریعہ بھرے گئے ٹینڈر کو پہلے کھول کر دیکھ لیاگیا اور پھر اس کے لحاظ سے بینک کے شیئرس کی قیمت گھٹا دی گئی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر شکتی سنگھ گوہل نے اسے ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: احتجاج میں شرکت پر عمران خان کو معافی مانگنی پڑی
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بینک کے شیئرس خریدنے کیلئے جن دیگر اداروں نے بولیاں لگائیں ان کی بھی تفصیل جاری کی جائے۔ اپوزیشن پارٹی نے مزید کہا کہ غیر ملکی کمپنی آئی ڈی بی آئی بینک کوکہاں اور کیسے ادائیگی کریگی اس کی بھی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ گوہل نے کہا کہ مودی حکومت آئی ڈی بی آئی بینک کو ایک ایسی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہے جو اس بینک کو خریدنے کیلئےخود اسی بینک کے فنڈس کا استعمال کر رہی ہے۔ ایک تجزیہ کار کی فیئر فیکس کے چیئرمین اور بانی پریم واتسااور صدر پیٹر کلارک کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے تجزیہ کار کو بتایا تھا کہ ادائیگی قسطوں میں کی جائے گی۔ وہ آئی ڈی بی آئی بینک کو حاصل کرنے کیلئے ابتدائی طور پر کچھ رقم فراہم کریں گے اور بعد ازاں باقی ماندہ ادائیگیوں کیلئے بینک کے ہی وسائل کا استعمال کریں گے۔