• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان کے سابق کرکٹر باسط علی نے نانا پاٹیکر کو یاد کیا

Updated: October 09, 2026, 5:02 PM IST | Karachi

معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد سابق پاکستانی کرکٹر باسط علی نے اپنے دیرینہ دوست کو یاد کرتے ہوئے ان کے انسانی جذبے، خلوص اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی عادت کا ذکر کیا ہے۔ باسط علی نے بتایا کہ نانا پاٹیکر نے ان کی والدہ کی علالت کے دوران مسلسل خیریت دریافت کی اور ان کے انتقال کے بعد بھی انہیں تنہا محسوس نہیں ہونے دیا۔

Nana Patekar And Basit Ali.Photo:INN
باسط علی اور نانا پاٹیکر۔ تصویر:آئی این این

معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد سابق پاکستانی کرکٹر باسط علی نے اپنے دیرینہ دوست کو یاد کرتے ہوئے ان کے انسانی جذبے، خلوص اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی عادت کا ذکر کیا ہے۔ باسط علی نے بتایا کہ نانا پاٹیکر نے ان کی والدہ کی علالت کے دوران مسلسل خیریت دریافت کی اور ان کے انتقال کے بعد بھی انہیں تنہا محسوس نہیں ہونے دیا۔ اداکار کے انتقال کی خبر نے باسط علی کو غمزدہ کردیا، جن کی نانا پاٹیکر سے دوستی تقریباً تین دہائیوں پر محیط تھی۔

باسط علی کے مطابق، نانا پاٹیکر سے ان کی بات چیت کا آغاز ۱۹۹۴ء میں ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان قریبی تعلق قائم ہوگیا اور وہ عموماً مہینے میں ایک یا دو مرتبہ فون پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ باسط نے نانا پاٹیکر کو ایک بہترین اداکار کے ساتھ ساتھ ایک مخلص دوست اور بڑے بھائی جیسی شخصیت قرار دیا۔ باسط علی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ نانا پاٹیکر پردے پر جس طرح نظر آتے تھے، حقیقی زندگی میں بھی ان کی شخصیت ویسی ہی تھی۔ ان کے مطابق، اداکار کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں بے تکلفی، محبت اور مزاح کا عنصر ہمیشہ موجود رہتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:فلمی تنظیم نے تنوشری دتہ کے بیان پر سخت تنقید کردی

باسط علی نے اپنی زندگی کے ایک جذباتی دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کی والدہ اسپتال میں زیر علاج تھیں تو نانا پاٹیکر ہر ہفتے فون کرکے ان کی خیریت دریافت کرتے تھے۔ اداکار ان کی والدہ سے طویل گفتگو کرتے، ان کی باتیں سنتے اور ان کی صحت کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے۔ باسط کے مطابق، والدہ کے انتقال کے بعد نانا پاٹیکر نے انہیں اپنا خیال رکھنے کی نصیحت کی۔ اداکار کے یہ الفاظ ان کے ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔ باسط نے بتایا کہ نانا پاٹیکر نے مشکل وقت میں ان کا حوصلہ بڑھایا اور یہ احساس دلایا کہ وہ ان کے دکھ میں شریک ہیں۔سابق پاکستانی کرکٹر کے لیے یہ محض رسمی خیریت دریافت کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے دوست کی محبت تھی جو سرحدوں اور پیشوں کے فرق سے بالاتر ہوکر انسانی رشتوں کو اہمیت دیتا تھا۔
 باسط علی نے یہ بھی بتایا کہ جب انہیں دل سے متعلق طبی مسئلہ پیش آیا اور ان کے علاج کے دوران اسٹنٹ ڈالا گیا تو نانا پاٹیکر نے ان کی صحت کے بارے میں پیغام بھیجا۔ اداکار نے انہیں بہتر محسوس ہونے پر فون کرنے کے لیے کہا۔ بعد میں جب دونوں کی بات ہوئی تو نانا نے علاج اور ان کی صحت کے بارے میں تفصیل سے دریافت کیا۔

یہ بھی پڑھئے:دوستانہ فٹ بال میچ میں روس کے ہاتھوں ہندوستان خواتین ٹیم کو شرمناک شکست ملی

باسط علی کے مطابق، نانا پاٹیکر کی یہی عادت انہیں دوسروں سے مختلف بناتی تھی۔ وہ اپنے دوستوں اور قریبی لوگوں کی زندگی کے حالات سے باخبر رہتے اور ضرورت کے وقت ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ نانا پاٹیکر کو یاد کرتے ہوئے باسط علی نے کہا کہ اداکار کی محبت اور شفقت ایک بڑے بھائی جیسی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں فلموں کے مناظر اور اداکاری کے بارے میں بھی گفتگو کرتے تھے۔ کبھی باسط کسی فلم کے مخصوص منظر کے بارے میں سوال کرتے تو نانا پاٹیکر مزاحیہ انداز میں انہیں ٹال دیتے تھے، جس سے ان کی بے تکلف دوستی کا اندازہ ہوتا ہے۔باسط علی نے کہا کہ انہیں اب بھی یقین نہیں آرہا کہ نانا پاٹیکر اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ اکثر اداکار کو محبت سے ’’ینگ مین‘‘ کہہ کر پکارتے تھے، کیونکہ ان کے خیال میں نانا اپنی عمر سے کم دکھائی دیتے تھے۔باسط علی نے اپنے خراجِ عقیدت میں اس بات پر بھی زور دیا کہ نانا پاٹیکر صرف  ہندوستان ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی بے حد مقبول تھے۔ ان کے مطابق، پاکستانی شائقین بھی اداکار کی فلموں اور ان کی غیر معمولی اداکاری کو پسند کرتے تھے۔ نانا پاٹیکر کا انتقال ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو۷۵؍ سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد ہوا۔ ہندی اور مراٹھی سنیما میں تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط کریئر کے دوران انہوں نے متعدد یادگار کردار ادا کیے۔ ان کی فلموں میں ’’پرندہ‘‘، ’’ترنگا‘‘، ’’کرانتی ویر‘‘، ’’اگنی ساکشی‘‘ اور’ ’اب تک چھپن‘‘ شامل ہیں۔ باسط علی کا جذباتی پیغام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نانا پاٹیکر کی پہچان صرف ان کی اداکاری تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان کے ذاتی تعلقات اور دوستوں کے ساتھ خلوص نے بھی لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے جگہ بنائی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK