Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۳۰ء تک ہندوستان میں گیگ انٹرنیٹ ورک فورس ۲؍ کروڑ کے قریب پہنچ سکتی ہے

Updated: July 28, 2026, 9:06 PM IST | Mumbai

ایک نئی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی گیگ انٹرنیٹ ورک فورس۲۰۳۰ء تک تقریباً تین گنا بڑھ کر ۷ء۱؍ کروڑ سے۱ء۲؍ کروڑ ماہانہ فعال کارکنوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً ۶۰؍ لاکھ افراد مختلف گیگ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔

Gig Workers.Photo:INN
گیگ ملازمین۔ تصویر:آئی این این

ایک نئی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی گیگ انٹرنیٹ ورک فورس۲۰۳۰ء تک تقریباً تین گنا بڑھ کر ۷ء۱؍ کروڑ سے۱ء۲؍ کروڑ ماہانہ فعال کارکنوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً ۶۰؍ لاکھ افراد مختلف گیگ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کے ذریعے کام کر رہے ہیں، جبکہ اس شعبے میں سالانہ ۲۴؍ سے ۲۹؍ فیصد  کی کمپاؤنڈ سالانہ شرح نمو (CAGR) متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نیرج چوپڑا کامن ویلتھ گیمز کے چیلنج کے لیے بہترین فارم میں نظر آرہے ہیں


 ریڈ سیئر اسٹریٹیجی کنسلٹنٹس  کی رپورٹ کے مطابق، ڈلیوری، رائیڈ ہیلنگ (کیب سروسز) اور ہوم سروسز جیسے شعبوں سے وابستہ گیگ ورک فورس ۲۰۳۰ء تک ملک میں ہر سال پیدا ہونے والی تقریباً ۸۰؍ لاکھ  غیر زرعی ملازمتوں میں سے لگ بھگ  ۷۰؍ فیصد روزگار کی ضرورت پوری کر سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۳۰ء تک  رائیڈ ہیلنگ  کا شعبہ سب سے بڑا ہوگا، جہاں ۲ء۱؍ کروڑ سے ۴ء۱؍ کروڑ گیگ ورکرز کام کریں گے۔ اس کے بعد  ڈلیوری سیکٹر  میں ۵۰؍ سے ۷۰؍ لاکھ اور ہوم سروسز  میں  ۲۰؍ ہزار سے۳۰؍ ہزار  افراد کے کام کرنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متوقع گیگ ورک فورس میں ۳۰؍ فیصد سے زیادہ  افراد پہلی مرتبہ روزگار کی منڈی میں داخل ہوں گے۔ سروے میں شامل موجودہ گیگ ورکرز میں سے ۵۴؍ فیصد  نے بتایا کہ گیگ پلیٹ فارم سے وابستہ ہونے سے پہلے وہ کسی بھی قسم کی تنخواہ دار ملازمت میں نہیں تھے۔۲۲۵۰؍ گیگ ورکرز  پر کیے گئے سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق، کل وقتی گیگ ورکرز کی آمدنی اسی نوعیت کی رسمی اور غیر رسمی ملازمتوں کے مقابلے میں  ڈھائی گنا  زیادہ ہے۔ گیگ ورکرز کی اوسط آمدنی ۱۳۸؍ روپے فی گھنٹہ رہی  جبکہ اسی نوعیت کا کام کرنے والے رسمی اور غیر رسمی ملازمین کی اوسط آمدنی ۵۴؍ روپے فی گھنٹہ  ریکارڈ کی گئی۔
ماہانہ خالص آمدنی کے لحاظ سے  ہوم سروسز  سے وابستہ گیگ ورکرز سب سے آگے رہے، جن کی اوسط کمائی  ۷۰؍ ہزار سے ۸۰؍ہزار روپے  ماہانہ رہی۔ اس کے بعد  رائیڈ ہیلنگ ڈرائیورز  کی ماہانہ آمدنی ۳۷؍ ہزار سے ۳۹؍ ہزار روپے  اور ڈلیوری ورکرز  کی اوسط آمدنی ۲۲؍ ہزار سے۲۳؍ ہزار روپے ماہانہ رہی۔

یہ بھی پڑھئے:ریان گوسلنگ نئے ’’گھوسٹ رائیڈر‘‘بنیں گے


ریڈ سیئر اسٹریٹیجی کنسلٹنٹس کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر  انیل کمار  نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں گیگ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز ہندوستان کی ورک فورس کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز نے لاکھوں افراد کو لچکدار اور طلب پر مبنی روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں، جس سے رسمی اور غیر رسمی دونوں شعبوں میں روزگار کے نئے راستے کھلے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سروے میں شامل تقریباً۷۰؍ فیصد گیگ ورکرز کا ماننا ہے کہ اس شعبے میں کام کرنے سے ان کے مستقبل کے روزگار کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں کسٹمر مینجمنٹ، نیویگیشن اور مالیاتی منصوبہ بندی جیسی اہم مہارتیں سیکھنے کا بھی موقع ملا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK