ہندوستانی وفد، معاشی صورتحال کا جائزہ لینے سری لنکا پہنچا

Updated: June 24, 2022, 11:41 AM IST | Agency | Mumbai

ونے کواترا کی قیادت میں وفد نے صدر گوٹابایا راجا پکسے اور وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے سے ملاقات کی

High level Indian delegation with Prime Minister Ranil Wickremesinghe. .Picture:PTI
اعلیٰ سطحی ہندوستانی وفد وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے کے ساتھ۔۔ تصویر: پی ٹی آئی

خارجہ سیکریٹری ونے کواترا کی قیادت میں ایک ہندوستانی وفد سری لنکا کو ممکنہ اقتصادی امداد پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے جمعرات کو یہاں پہنچا۔  کواترا کے ساتھ تین دیگر اعلیٰ سرکاری افسران بھی ہیں۔ سری لنکا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر گوپال باگلے نے ہوائی اڈے پر وفد کا استقبال کیا۔ سری لنکا۱۹۴۸ءء میں اپنی آزادی کے بعد سے بدترین اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں اشیائے خورد و نوش، دوائیں، قدرتی گیس اور ایندھن جیسی ضروری چیزوں کی زبردست قلت پیدا ہو گئی ہے۔   میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفد نے صدر گوٹابایا راجا پکسے اور وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے سے ملاقات کی اور ہندوستانی حکام جمعرات کی شام نئی دہلی  لوٹ جائیں گے۔سری لنکا میں درآمد کرنے کیلئے زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے خوراک، ایندھن اور ادویات کی بڑے پیمانے پر قلت ہے۔ قبل ازیں سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرم سنگھے نے اقتصادی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بدھ کو ملکی پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہم نے کریڈٹ لائن کے تحت  ہندوستان سے ۴؍ ارب امریکی ڈالر کا قرض لیا ہے۔ ہم نے اپنے  ہندوستانی ہم منصب  لیڈروںسے مزید قرض دینے کی درخواست کی ہے لیکن  ہندوستان  بھی اس طرح مسلسل ہمارا ساتھ نہیں دے پائے گا۔ ان کی طرف سے امداد فراہم کرنے کی بھی ایک حد ہے۔ دوسری طرف ہمارے پاس بھی ان قرضوں کی ادائیگی کا منصوبہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہ پیسے خیرات میں نہیں ملے ہیں۔رانیل وکرم سنگھے نے بتایا کہ  ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے اعلیٰ افسران کی ایک ٹیم مقامی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے  جمعرات کو کولمبو پہنچی۔انہوں نے  یہ بھی کہا کہ سری لنکا کو اب ایندھن، گیس، بجلی اور خوراک کی قلت سے کہیں زیادہ سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رانیل وکرم سنگھے نے کہا، ’’ہماری معیشت پوری طرح منہدم ہوتی جارہی ہے۔ آج ہمارے سامنے سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہی ہے۔ ان مسائل کو  سری لنکا کی معیشت میں دوبارہ جان ڈال کر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران سے نمٹنا ہوگا۔‘‘انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جس کی معیشت پوری طرح تباہ ہوچکی ہو اور بالخصوص جس کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے ہوں، اسے  بحال کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK