Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز سے ہندوستانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہے: عباس عراقچی

Updated: March 26, 2026, 12:57 PM IST | Tehran

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے ہندوستانی جہازوں اور کچھ دوسرے دوستانہ ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

Abbas Arqachi.Photo:INN
عباس عراقچی۔ تصویر:آئی این این

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے ہندوستانی  جہازوں اور کچھ دوسرے دوستانہ ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے وزیر خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران نے دوست ممالک بشمول ہندوستان ، روس، چین، عراق اور پاکستان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دوست ممالک بشمول چین، روس، ہندوستان، عراق اور پاکستان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی، انہوں نے مزید کہا کہ دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تھا۔ آبنائے ہرمز ، ایک اہم سمندری گزر گاہ ہے جس سے تیل اور گیس کی عالمی تجارت کا تقریباً ۲۰؍ فیصد حصہ گزرتا ہے، جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد روک دیا تھا۔آبنائے ہرمز، ہمارے نقطہ نظر سے، مکمل طور پر بند نہیں ہے۔ یہ صرف دشمنوں کے لیے بند ہے۔ ہمارے دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اس سے قبل توانائی کی فراہمی میں عالمی رکاوٹوں اور ایندھن کی آسمان چھوتی قیمتوں کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ساتھ حی ایران نے صدر ٹرمپ کے۱۵؍ نکاتی امن منصوبے کا مذاق اڑایا اور اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات کو جعلی قرار دیتے ہوئے اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔
ایران فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا ہے: عراقچی
 ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ملک کے حکام اس وقت خطے میں تنازعات کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے ہیں، ایرانی ٹیلی ویژن چینل پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے ۔ عراقچی نے کہا کہ امریکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے تہران کو پیغامات پہنچاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’ڈی ڈی ایل جے‘‘ کا کردار میرے والد سے متاثر تھا: انوپم کھیر کا انکشاف


۲۴؍مارچ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھاکہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ امریکی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ امریکی صدر نے کہا تھاکہ مذاکراتی عمل اتوار کو دوبارہ شروع ہوا اور اس نے تنازع کو حل کرنے کے لیے تہران کے سنجیدہ ارادے کا اظہار کیا ہے ۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت کا قانون منظوری کے قریب


۲۸؍فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیےتھے، جس سے شہریوں کو نقصان اور ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی سرزمین اور امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا  تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے آنے والے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کا ’’پہلے سے‘‘ حملہ ضروری تھا، لیکن انہوں نے جلد ہی واضح کر دیا کہ وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK