• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں نجی قرض جاتی مارکیٹ کا حجم ۲۰۳۰ء تک ۶۵؍ ارب ڈالر ہونے کی توقع

Updated: November 04, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں نجی قرض جاتی مارکیٹ آنے والے برسوں میں تیزی سے وسعت اختیار کرسکتی ہے اور اس شعبے کے زیر انتظام اثاثوں کی مالیت ۲۰۳۰ء تک بڑھ کر ۵۶؍ سے ۶۵؍ ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

NBFC.Photo:INN
این بی ایف سی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان میں نجی قرض جاتی مارکیٹ (Private Credit Market) آنے والے برسوں میں تیزی سے وسعت اختیار کرسکتی ہے اور اس شعبے کے زیر انتظام اثاثوں کی مالیت (Assets Under Management - AUM) ۲۰۳۰ء تک بڑھ کر ۵۶؍ سے ۶۵؍ ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ کیئرایج ریٹنگز (CareEdge Ratings) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، کیلنڈر سال ۲۰۲۵ء میں ہندوستان کی نجی قرضہ جاتی مارکیٹ کا حجم ۲۱ء۸؍ ارب ڈالر تھا، جس کے مقابلے میں ۲۰۳۰ء تک اس میں تقریباً تین گنا اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ میں اس شعبے کی سالانہ مرکب ترقی کی شرح (CAGR) تقریباً ۲۱؍ سے ۲۴؍ فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:رافینہ اور جمال کی شاندار کارکردگی، بارسلونا نے ایسٹن ولا کو شکست دے دی

رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں نجی قرضہ جاتی مارکیٹ ابھی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی ) کے مقابلے میں اس شعبے کی موجودہ رسائی محض ۰ء۶؍ فیصد ہے، جبکہ امریکہ میں یہ شرح ۴ء۴؍ فیصد اور برطانیہ میں ۸ء۴؍ فیصد ہے۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں نجی قرضہ جاتی شعبے کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے طویل مدتی امکانات موجود ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کا کریڈٹ ٹو جی ڈی پی تناسب ۲۰۲۲ء میں ۸۸ء۳؍ فیصد تھا، جو ۲۰۲۳ء میں بڑھ کر ۹۳ء۸؍ فیصد، ۲۰۲۴ء میں ۹۵ء۳؍ فیصد اور ۲۰۲۵ء میں ۱۰۲ء۳؍ فیصد ہوگیا۔ اس کے برعکس امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسی ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ تناسب تقریباً ۱۴۰؍ سے ۲۰۰؍ فیصد کے درمیان ہے۔ 
نجی قرضہ دراصل ایسا مالیاتی نظام ہے جس کے تحت بینکوں یا عوامی بانڈ مارکیٹ کے بجائے نجی سرمایہ کاروں، فنڈز اور مالیاتی اداروں کے ذریعے کمپنیوں کو قرض فراہم کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے خاص طور پر درمیانے درجے کی کمپنیوں، ترقی کے مرحلے سے گزرنے والے کاروباروں اور ایسی کمپنیوں کو سرمایہ دستیاب ہوتا ہے جنہیں روایتی بینکنگ ذرائع سے مطلوبہ مالی معاونت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:``فری فلسطین ٹور‘‘ کے اختتام پر میکلمور کا جذباتی بیان، کہا ’’میں خود کو جذباتی محسوس کر رہا ہوں‘‘

کیئرایج کی رپورٹ کے مطابق، بینکوں کی جانب سے قرض فراہم کرنے کے سخت ضوابط، کمپنیوں کی مخصوص مالی ضروریات، قرض کی دوبارہ مالیاتی ترتیب   کے مواقع اور دیوالیہ پن اور قرض وصولی کے نظام میں بہتری اس شعبے کی ترقی کے اہم محرکات ہیں۔ نجی قرضہ کمپنیوں کو ان کی ضروریات کے مطابق لچکدار مالیاتی سہولتیں فراہم کرتا ہے، جس سے کاروبار کو وسعت دینے، نئے منصوبے شروع کرنے اور موجودہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے سرمایہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ 
 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں ڈائریکٹ لینڈنگ  ، وینچر ڈیٹ اور رئیل اسٹیٹ ڈیٹ نجی قرض جاتی مارکیٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسپیشل سچویشنز   سے متعلق مالیاتی سودے بھی اس شعبے کی توسیع میں معاون ثابت ہوں گے۔ کیئرایج ایڈوائزری کی سینئر ڈائریکٹر تنوی شاہ کے مطابق، معیاری بینک قرضوں سے ہٹ کر لچکدار سرمایہ حاصل کرنے کی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت ہندوستانی نجی قرضہ جاتی مارکیٹ کو ۲۰۳۰ء تک ۵۶؍ سے ۶۵؍ ارب ڈالر تک پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی ترقی کو پائیدار منافع میں تبدیل کرنے کے لیے قرض دینے سے پہلے محتاط جانچ، خطرات کے مطابق شرحِ منافع اور قرض کے معاہدوں میں مضبوط حفاظتی شرائط ضروری ہوں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK