اے ۳۲۰؍ زمرے کے طیاروں پر فلائٹ کنٹرول سے متعلق سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کا کام انڈیگو نے مکمل کر لیا ہے جبکہ ایئر انڈیا نے بھی ہفتہ کی دیر رات۹۰؍فیصد کام مکمل ہونے کی اطلاع دی ہے۔
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 7:59 PM IST | New Delhi
اے ۳۲۰؍ زمرے کے طیاروں پر فلائٹ کنٹرول سے متعلق سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کا کام انڈیگو نے مکمل کر لیا ہے جبکہ ایئر انڈیا نے بھی ہفتہ کی دیر رات۹۰؍فیصد کام مکمل ہونے کی اطلاع دی ہے۔
اے ۳۲۰؍ زمرے کے طیاروں پر فلائٹ کنٹرول سے متعلق سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کا کام انڈیگو نے مکمل کر لیا ہے جبکہ ایئر انڈیا نے بھی ہفتہ کی دیر رات۹۰؍فیصد کام مکمل ہونے کی اطلاع دی ہے۔ جیٹ بلو کی پرواز۱۲۳۰؍ میں۳۰؍اکتوبر کو ہوئے واقعہ کے بعد ایئر بس نے دنیا بھر میں اے ۳۲۰؍ زمرے (اے۳۱۹ ، اے ۳۲۰؍ اور اے۳۲۱) کے کئی ورژنوں کے لئے لازمی اپ ڈیٹ سے متعلق ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔
یہ مسئلہ طیارے کے فلائٹ کنٹرول سے متعلق ہے، اس کے بعد پہلے یورپی یونین کی ہوابازی سیکوریٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) اور پھر ڈی جی سی اے نے ایئر لائنز کے لیے ہدایات جاری کیں۔
یہ بھی پڑھئے:رنویر سنگھ کانتارا کے کلائمیکس سین کی نقل کرنے پر ٹرول ہوگئے
ہندوستان میں تین ہوائی کمپنیوں انڈیگو، ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس کے پاس اے۳۲۰؍ زمرے کے طیارے ہیں۔ ان میں ۳۳۸؍ طیاروں کو اپ ڈیٹ کی ضرورت ہے، ان میں ۲۰۰؍ انڈیگو کے پاس، ۱۱۳؍ ایئر انڈیا کے پاس اور ۲۵؍ ایئر انڈیا ایکسپریس کے پاس ہیں۔ انڈیگو نے ہفتہ کی دیر رات بتایا کہ اس کے تمام ۲۰۰؍ طیاروں میں اپ ڈیٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ ایئر انڈیا نے بھی۹۰؍ فیصد طیاروں میں اپ ڈیٹ کا کام مکمل ہونے کی معلومات دی ہیں۔ ہفتہ کی شام ساڑھے ۵؍ بجے تک ایئر انڈیا ایکسپریس نے ۱۷؍ طیاروں پر اپ ڈیٹ کا کام مکمل کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:الینڈے کی ہیٹ ٹرک، انٹر میامی کو ایم ایل ایس کپ کے فائنل میں پہنچا دیا
اپ ڈیٹ سے قبل ان طیاروں کی پرواز پر پابندی کی وجہ سے ہفتہ کے روز ایئر انڈیا ایکسپریس کی کم از کم چار پروازیں منسوخ ہو گئی تھیں جبکہ ایئر انڈیا اور انڈیگو نے کسی پرواز کے منسوخ ہونے کی اطلاع نہیں دی ہے، تاہم کچھ پروازوں میں تاخیر ضرور ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ جیٹ بلو کا کانکون سے نیویارک جا رہا طیارہ پرواز کے دوران اچانک کچھ دیر کے لئے بے قابو ہو گیا جس سے ۱۵؍ مسافر زخمی ہو گئے۔ پائلٹ نے بتایا کہ طیارے کا کنٹرول سسٹم اس طرح سے کام نہیں کر رہا تھا جیسے اسے کرنا چاہئے تھا۔