Updated: December 25, 2025, 1:33 PM IST
| New Delhi
یہ بحران تقاضہ کرتا ہے کہ جوابدہی طے ہو،شہری ہوا بازی کے وزیر نائیڈو کو ہٹایا جائے جنہوں نے مسافروں کی سلامتی کے ساتھ سودا کیا اور قواعد کے نفاذ میں تاخیر کی
ا نڈیگو کے بحران کے وقت ایئر پورٹ پر پھنسے ہوئے مسافر۔ ( فائل فوٹو)
شہری ہوابازی کے شعبہ کا نظم ونسق دیکھنے والے ادارہ ’’ ڈی جی سی اے ‘‘نے جنوری ۲۰۲۴ء میں پہلی بار نئے ایف ڈی ٹی ایل (فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن) قواعد تجویز کئے تھے۔ اس کا مقصد مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر پائلٹس کو مناسب آرام فراہم کرنا تھا۔ انڈیگو نے ان نئے قواعد کے نفاذ کو نظرانداز کیا اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے نہ تو نئے پائلٹس کی بھرتی کی ، نہ تربیت کیلئے کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی شیڈول میں ایسی تبدیلی کی جو نئے حفاظتی تقاضوں کے مطابق ہو۔ پائلٹس کی شکایات کو نظرانداز کیا گیا اور اجارہ داری کے غلط استعمال کے معاملات سامنے آئے۔ پائلٹس نے عدالتوں میں مقدمات دائر کئے۔ اس کے باوجود ڈی جی سی اے انڈیگو کے حق میں ضوابط میں نرمی کرتا رہا۔ انڈیگو کے حق میں کئی بار التوا کے بعد، بالآخر عدالت کے حکم پر نئے ایف ڈی ٹی ایل قواعد کو دو مرحلوں میں یکم جولائی اور یکم نومبر۲۰۲۵ء سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یعنی تقریباً ۲؍سال کی تاخیر کے بعد۔ انڈیگو ان نئے قواعد کیلئے تیار نہیں تھا جس کے نتائج سامنے آئے۔ انڈیگو کا شیڈول درہم برہم ہو گیا اور۵؍ دسمبرکو ایک ہزار سے زائد انڈیگو پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ہزاروں مسافر پھنس گئے۔
آج انڈیگو ہندوستان کی شہری ہوا بازی کے بازار کے ۶۴؍ فیصد حصے پر قابض ہے، جبکہ ٹاٹا گروپ (ایئر انڈیا) کا حصہ۲۸؍ فیصد سے کچھ کم ہے۔۲۰۰۴ءمیں سالانہ مسافروں کی تعداد ۳ء۵؍ کروڑ تھی اور ان کیلئے ۷؍ ایئرلائنس تھیں۔ ۲۰۲۵ء میں مسافروں کی تعداد بڑھ کر۲۱؍ کروڑ ہو گئی ہے مگر صرف ۲؍ بڑی ایئرلائن۹۰؍ فیصد سے زائد مارکیٹ شیئر پر قابض ہیں۔ یہ اجارہ داری کے غلط استعمال اور ریگولیٹری گرفت کی مثال ہے، جہاں ریگولیٹرڈی جی سی اے عوامی مفاد کے بجائے نجی منافع کو یقینی بناتا نظر آتا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں ایئرلائن بحران کا بین الاقوامی تجربہ کیا ہے؟ اس کے لیے زیادہ دور دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ دسمبر۲۰۲۲ء میں امریکہ میں ساؤتھ ویسٹ ایئرلائن کا بحران اس کی واضح مثال ہے۔ امریکی ہوا بازی کی منڈی میں چار بڑی ایئرلائنس کا دبدبہ ہے۔ ساؤتھ ویسٹ ان میں سے ایک ہے، اور ہر ایک کا مارکیٹ شیئر تقریباً۱۸؍ فیصد ہے۔ ساؤتھ ویسٹ ایئرلائن کا بحران۲۱؍ دسمبر۲۰۲۲ء کو شروع ہوا، جب شدید سرمائی طوفان نے مغربی اور وسطی امریکہ کے بڑے حصوں کو متاثر کیا۔ اگلے چند دنوں میں ساؤتھ ویسٹ کی بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ ہوئیں۔ مجموعی طور پر ساؤتھ ویسٹ نے ایک ہفتے کے دوران۱۶؍ ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کیں جو امریکی ہوا بازی کی تاریخ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ تقریباً۲۰؍ لاکھ مسافر پھنس گئے۔
اگرچہ ابتدائی خلل کی وجہ سرمائی طوفان تھا لیکن ڈھانچہ جاتی اور عملی کمزوریوں نے اسے بڑے بحران میں تبدیل کردیا۔ ساؤتھ ویسٹ ایئر لائن پروازوں کے شیڈیول اور انتظام کیلئےپرانا اور غیر لچکدار نظام استعمال کر رہی تھی جو سلسلہ وار رکاوٹوں کو سنبھالنے کے قابل نہیں تھا۔ جب نظام بگڑا تو اس کو سنبھالنے کی کوششیں بھی ناکام ثابت ہوئیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ پائلٹ یونین کی جانب سے دی گئی اندرونی وارننگز کو نظرانداز کیا گیا۔ اس بحران کی تحقیقات سینیٹ کمیٹی نے کیں۔ ایک سال کی تحقیقات کے بعد، دسمبر۲۰۲۳ء میں امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹ نے ساؤتھ ویسٹ پر۱۴۰؍ ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا، جو امریکی ایئرلائن پر مسافروں کے تحفظ کے حوالے سے سب سے بڑا جرمانہ تھا۔ اس کے علاوہ ساؤتھ ویسٹ ایئر لائن کو اپنے مسافروں کو۶۰۰؍ ملین ڈالر سے زائد کی رقم واپس کرنی پڑی۔ یوں ایئرلائن کو بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ بعد ازاں ساؤتھ ویسٹ نے اپنے نظام اپ گریڈ کئے اور۲۰۲۵ء کے اوائل تک وقت کی پابندی اور قابلِ اعتماد سروس کے ساتھ مضبوط کارکردگی بحال کر لی۔ امریکہ میں ساؤتھ ویسٹ ایئرلائن کا یہ بحران اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح نازک آپریشنل نظام ایک معمولی موسمی واقعے کو ملک گیر تباہی میں بدل سکتے ہیں۔
تو پھر انڈیگو بحران کے بارے میں کیا کیا جانا چاہیے؟ اول تو ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے شہری ہوا بازی کے وزیر نائیڈو کو ہٹایا جائے جنہوں نے مسافروں کی سلامتی کو خطرہ میں ڈال کر حفاظتی قواعد کے نفاذ میں تاخیر کی اجازت دی۔ وہ جواب دہ ہیں اور انہیں ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ دوم ڈائریکٹر جنرل سو ِل ایوی ایشن اور ڈی جی سی اے کی اعلیٰ قیادت کو ہٹایا جائے۔سوم، انڈیگو کے سی ای او پیٹر ایلبرس کو برطرف کیا جائے جو براہ راست آپریشنل ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔
ڈی جی سی اے کی جانب سے ایک باضابطہ انکوائری کی جائے اور اس کی رپورٹ ۱۵؍دن کے اندر پیش کی جائے۔انڈیگو پر جرمانہ عائد کیا جائےتاکہ پروازوں کی منسوخی سے متاثرہ مسافروں کو معاوضہ دینے کیلئے فنڈ قائم کیا جا سکے۔ کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ۲۷ ؍حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کمپنی کے اوسط کاروبار کے۱۰؍ فیصد تک جرمانہ عائد کر سکتی۔یہ اجارہ داری کو روکنے کیلئے حکومت کے پاس موجود مضبوط ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔
ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) قائم کی جائے جو خاص طور پر انڈیگو (انٹرگلوب ایوی ایشن) کی جانب سے انتخابی بانڈز کے ذریعے سیاسی جماعتوں، بالخصوص بی جے پی، کو دیئے گئے۵۸؍ کروڑ روپے کے سیاسی عطیات اور ممکنہ گٹھ جوڑ کا جائزہ لے۔ کیا ان عطیات نے انڈیگو کو ڈی جی سی اے کے حفاظتی قواعد کو نظرانداز کرنے، نئے پائلٹس کی بھرتی مؤخر کرنے اور مسافروں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا حوصلہ دیا؟
یہ سوال بھی ہے کہ کیا فضائی کرایوں کی حد مقرر ہونی چاہیے۔۳۱؍اگست۲۰۲۲ء کوشہری ہوا بازی کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے یہ حد ختم کر دی تھی جس کے بعد ایئرلائنس کو من مانا کرائے وصولنے کی اجازت مل گئی۔ بہت سے ترقی پزیر ممالک میں فضائی کرایوں پر حد مقرر ہے۔ اجارہ داری کی صورتحال میں کرایوں پر حد لازمی ہے۔ حکومت نے کرایوں کی حد کیوں ختم کی اور ایئرلائنس کو مسافروں کے استحصال کی اجازت کیوں دی؟ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ اس کی جانچ ہونی چاہئے۔
بدقسمتی سے، جب انڈیگو اپنی اجارہ داری قائم کر رہی تھی اور اس کا فائدہ اٹھار ہی تھی تب کمپٹیشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے غافل تھا۔کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ۲۷؍ حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ انڈیگو کو ۲؍مکمل طور پر آزاد ایئرلائنس میں تقسیم کرنے پر غور کرے۔ یہ قدم امریکہ میں بیسویں صدی کے اوائل میں شرمین اینڈ کلیٹن اینٹی ٹرسٹ ایکٹ کے تحت اٹھایا جاچکاہے۔ اس صورت میں ۳؍برابر حجم والی کمپنیاں وجود میں آئیں گی، جن میں سے ہر ایک کا مارکیٹ شیئر تقریباً۳۳؍ فیصد ہوگا۔ یہ دیگر ابھرتی ہوئی اجارہ داریوں کیلئے ایک سخت انتباہ ثابت ہوگا۔
(مضمون نگار کانگریس کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ ہیں۔)