Updated: January 17, 2026, 8:02 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی ایئرلائن انڈیگو نے دسمبر میں منسوخ شدہ پروازوں کے لیے تمام ری فنڈز جاری کر دیے ہیں، لیکن بہت سے مسافر اب بھی رقم وصول نہ ہونے یا جزوی ری فنڈ پر شکایت کر رہے ہیں۔ قواعد کے مطابق متاثرہ افراد کو معاوضہ کے دعوے کا بھی حق ہے، مگر عمل ابھی تک جاری ہے۔
ہندوستانی ایوی ایشن میں تازہ ترین صورتحال میں انڈیگو نے دسمبر ۲۰۲۵ء کے دوران منسوخ شدہ پروازوں کے لیے تمام ری فنڈز مکمل طور پر ادا کیے ہیں، جیسا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے بھی تصدیق کی ہے۔ اس اعلامیے کے مطابق وہ تمام بکنگز جنہیں ۳؍ سے ۵؍ دسمبر تک منسوخ کیا گیا تھا، اُن کی رقم اصل ادائیگی کے ذرائع میں واپس کر دی گئی ہے۔ تاہم، ری فنڈ کے ساتھ ساتھ معاوضہ (Compensation) کے جاری کرنے کا عمل ابھی تک جاری ہے اور بہت سے مسافر اپنی رقم یا اضافی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ڈی جی سی اے نے واضح کیا ہے کہ جو مسافر دسمبر کے منسوخی سے متاثر ہوئے، وہ سول ایوی ایشن کے ضوابط کے تحت معاوضے کے مستحق ہیں، لیکن متعدد افراد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شکایت کی ہے کہ یا تو ان کا زیربحث سفر لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا یا پھر انہیں مکمل ادائیگی ابھی تک نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ الیکشن جیتنے کیلئے بی جےپی بنگال میں فساد کروانا چاہتی ہے‘‘
ایکس پر کئی صارفین نے اِن ری فنڈز اور معاوضوں کے عمل پر برہمی ظاہر کی ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ اس کی پرواز ۵؍ دسمبر کو منسوخ ہوئی تھی، لیکن آن لائن سسٹم میں اسے شامل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے وہ نہ تو ری فنڈ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی معاوضے کا دعویٰ کر پایا ہے۔ متعدد دیگر مسافر بھی اسی طرح کی شکایات لے کر آئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ری فنڈ کا عمل مکمل طور پر مسافروں کے بینک اکاؤنٹس تک نہیں پہنچا ہے یا کچھ معاملات ہنوز التوا کا شکار ہیں۔ مسافر تنظیموں اور صارفین نے کہا ہے کہ صرف ری فنڈ کلیئر کرنا کافی نہیں — متاثرہ صارفین کو معاوضہ، ٹکٹ ری شیڈولنگ کی سہولت، اور ممکنہ طور پر اضافی معاوضہ جیسے واؤچرز فراہم کیے جائیں، تاکہ زبردست ٹریول ڈسربنس کے اثرات کا ازالہ ہو سکے۔ کئی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں جزوی ری فنڈ یا فیس کٹوتی کے باوجود اضافی رقم کی واپسی نہیں ملی، اور وہ دوبارہ سفر کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: صارفین نے خود کوٹیسلا سے دور رکھا، ۲۰۲۵ء میں صرف ۲۲۵؍ گاڑیاں فروخت
واضح رہے کہ یہ بحران انڈرلائنگ آپریشنل مسائل اور شیڈول تبدیلیوں کے باعث دسمبر میں شروع ہوا تھا، جب ہزاروں پروازیں اچانک منسوخ ہو گئیں اور مسافر شدید سردیوں اور چھٹیوں کے سیزن میں پھنس گئے تھے۔ اس سے نہ صرف مسافروں کی بے چینی بڑھی بلکہ حکومت نے ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں پر حد بندی اور ایوی ایشن حکام کی جانب سے سخت نگرانی بھی شروع کر دی۔ ابھی تک ری فنڈز اور معاوضے کے سلسلے میں کچھ کنٹرول رومز اور شکایات سنبھالنے کے سسٹمز فعال کیے گئے ہیں، مگر صارفین کی اکثریت کا کہنا ہے کہ طویل انتظار اور التواء نے صارفین کا اعتماد متاثر کیا ہے۔ اس پس منظر میں ایوی ایشن شعبہ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مطالبہ ہے کہ وہ ری فنڈ اور معاوضے کے عمل کو زیادہ شفاف، تیز اور صارف دوست بنائیں، تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر میکانزم ہوسکے۔