سبزیوں کے دام بڑھتے رہے تو مہنگائی کی شرح ۸؍ فیصد تک پہنچنے کا اندیشہ

Updated: January 22, 2020, 4:23 PM IST | Agency | New Delhi

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک بار مہنگائی کی شرح بڑھنے کے بعد اس کا کم ہونا مشکل ہے، ٹیلی فون ٹیرف کے مہنگا ہونے سے بھی اہم اشیاء کے داموں پر اثر ہونے کا امکان۔

 سبزیوں کے دام بڑھتے رہے تو مہنگائی کی شرح ۸؍ فیصد تک پہنچنے کا اندیشہ
سبزیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

  نئی دہلی: سبزیوں کے داموں میں مسلسل اضافے کے سبب عوام یوں ہی پریشان ہیں لیکن اب معاشی سطح پر ایک اور تشویشناک خبر آئی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر سبزیوں کے داموں میں یوں ہی اضافہ ہوتا رہا تو مہنگائی کی شرح ۸؍ فیصد تک پہنچ جائے گی۔ ایس بی آئی کے ڈپارٹمنٹ آف اکنامک ریسرچ نے ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سبزیوں کے داموں کے تازہ رجحان اگر آگے بھی جاری رہے تو جنوری ۲۰۲۰ء میں ریٹیل مہنگائی کی شرح ۷ء۸؍ سے ۸؍ فیصد تک ہو سکتی ہے۔ دسمبر ۲۰۱۹ء میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر ۷ء۳۵؍ ہو گئی ہے۔ 
  ٹیلی فون ٹیرف اور افراط زر
  اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیف ایڈوائزر سومیا کانتی گھوش کی تیار کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام ٹیرف میں پہلے ہی اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے اہم اشیا ء کی مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے ۔ اصل افراط زر میں اگر زیادہ اضافہ ہوا تو مجموعی ریٹیل مہنگائی کی شرح ۸؍ فیصد کے قریب آ سکتی ہے۔ 
  مہنگائی کے جلد کم ہونے کا امکان نہیں 
  رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب مہنگائی کی شرح میں کمی ہوتی ہے تو کھانے پینے کی اشیاء کی ریٹیل داموں میں ہول سیل داموں کے مقابلے میں دھیمی رفتار سے کمی آتی ہے۔ جبکہ قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو کھانے پینے کی اشیاء کے داموں میں ہول سیل کے مقابلے ریٹیل میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مہنگائی بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس میں کمی آنے کیلئے کچھ وقت لگتا ہے یعنی مہنگائی سے جلد راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ 
  پروٹین والی اشیا مہنگی 
  ایس بی آئی کی تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب سبزیاں مہنگی ہوتی ہیں ، تو پروٹین والی اشیاء کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے پروٹین والی کھانے پینے کی اشیا ء بھی مہنگی ہوجاتی ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ دالوں کی ریکارڈ پیدا وار کے بعد نیفیڈ نے محض ۲۸؍ فیصد دالوں کی خریداری کی ہے اور اس کا فائدہ ایک فیصدی سے بھی کم کسانوں کو ملا ہے۔ یہ ایک افسوسناک پہلو ہے معیشت کا کہ پیدوار میں اضافہ ہوا ہے ، سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے کم خریداری کی گئی ہے اور ریٹیل کی سطح پر قیمتیں بڑھ رہی ہیں ۔ بڑھتی ریٹیل مہنگائی کے دوران رپورٹ میں حالانکہ اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ’ سی ایس او‘ ریٹیل مہنگائی کی پیمائش کیلئے کیا طریقہ اختیار کرے گا۔ اگر سبزیوں کے دام کنٹرول میں نہ آئے تو معیشت کیلئے مزید مشکلیں کھڑی ہوں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK