ایران نے قاسم سلیمانی کے قتل کو بزدلانہ اقدام قرار دیا

Updated: January 24, 2020, 12:39 PM IST | Agency | Washington

امریکہ کی نئےایرانی فوجی سربراہ کو کسی بھی کارروائی پر جنرل قاسم سلیمانی جیسے انجام کی دھمکی

ایران نے قاسم سلیمانی کے قتل کو بزدلانہ اقدام قرار دیا
اسماعیل قانی ۔ تصویر : آئی این این

  واشنگٹن : اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب  سلامتی کونسل کے  ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کو امریکہ کا ایک بزدلانہ اقدام  قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ جمعرات ہی کو  امریکہ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قانی کی جانب سے امریکیوں کو نشانہ بنایا گیا تو ان کا انجام ان کے پیشرو جیسا ہوگا۔یہ بیان ایران کیلئے امریکہ کے ایلچی برائن ہوک نے دیا ہے۔
  واضح رہے کہ جمعرات کو  اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب  مجید تخت روانچی نے ’ مشرق وسطیٰ اور مسئلہ فلسطین ‘ کے عنوان پر  منعقدہ سلامتی کونسل کی ایک نشست میں کہا کہ ’’ ۲۰۲۰ء میں اقوام متحدہ کی ۷۵؍ واں یوم تاسیس ہے اس موقع پر یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا اقوام متحدہ مسئلہ فلسطین کو حل نہیں کر سکتا؟‘‘  انہوں نے کہا کہ  اقوام متحدہ آخر فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام کیوں ہے؟ اور کیوں  صہیونیوں کے مظالم  اور ناجائز اقدامات پر وہ قدغن لگانے میں ناکام ہے؟ 
 اسی دوران انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بھی معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا ’’ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل ایک بزدلانہ اقدام ہے جو صرف اس لئے کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں ماحول کو خراب کیا جا سکے۔‘‘  انہوں نے اس قتل کو امریکہ کی سرکاری دہشت گردی اور  انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔  
  ادھر  امریکہ کے نمائندہ برائے ایران برائن ہوک نے ایک انٹرویو کے دوران ایران کے نئے فوجی سربراہ اسماعیل قانی کو باقاعدہ دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر  انہوں نے امریکی فوجیوں کے خلاف کوئی کارروائی کی تو ان کا انجام بھی  قاسم سلیمانی جیسا ہوگا۔  انہوں نے  مزید کہا کہ’’ امریکی صدر  یہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر کسی امریکی یا امریکی مفاد پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔یاد رہے کہ۳؍جنوری کو امریکہ نے صدر ٹرمپ کے حکم پر ایک ڈرون میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ۶۲؍ سالہ جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا تھا۔ سلیمانی کی ہلاکت کے فوراً بعد قدس فورس کے نئے سربراہ قانی نے ایران کی جانب سے ردعمل کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کئےگئے تھے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اسماعیل قانی قدس فور کے نئے سربراہ بن گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK