گزشتہ ۱۱؍ روز سےتمام ۳۱؍صوبوں میں احتجاج ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں ۳۴؍ مظاہرین اور ۴؍سیکوریٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
ایران میں معاشی بحران اور ریال کی قدر میں گراوٹ کیخلاف احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی جہاں تازہ احتجاج کے دوران مظاہرین کی فائرنگ سے دو سیکوریٹی اہلکار جاں بحق جبکہ ۳۰؍زخمی ہوگئے۔ فارس نیوز کے مطابق احتجاج اُس وقت پُرتشدد شکل اختیار کرگیا جب لردگان شہر میں د کاندار اپنی دکانیں بند کرنے کے بعد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ بعض مظاہرین نے سیکوریٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، لردگان شہر میں مظاہرین نے گورنر کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔
سرحدی صوبے شمالی خراسان کے شہر بجنورد میں ایک دکان کو آگ لگا دی گئی، ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ۱۱؍ روز سے جاری ہیں اور اس دوران جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد۳۶؍ہوچکی ہے۔ایران سے منسلک انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے بتایا کہ ایران کے مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ۳۸؍تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی گروپ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک بھر میں ۱۱؍دن سے مظاہرے جاری ہیں۔ گروپ نے مزید کہا کہ تمام ۳۱؍صوبوں میں احتجاج ہوئے جن کے نتیجے میں ۳۴؍ مظاہرین اور ۴؍سیکوریٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ ۳۴۸؍ مقامات پر ہو نے والے مظاہروں میں درجنوں زخمی ہوئے جبکہ ۲۲۱۷؍ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا البتہ حکام نے ہلاک یا زخمی افراد کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر تہران مظاہرین پر بے دریغ طاقت استعمال کرتا ہے تو واشنگٹن مظاہرین کی مدد کیلئے آئے گا۔ ایران کو حالیہ ہفتوں میں بگڑتی معیشت اور ریال کی قدر میں شدید گرواٹ سےبڑے پیمانے پر احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔