ہندوستان کو راحت ،تیل اور گیس کے جہاز آزادانہ طور پر آمدو رفت کرسکیں گے
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 7:46 AM IST | Tehran
ہندوستان کو راحت ،تیل اور گیس کے جہاز آزادانہ طور پر آمدو رفت کرسکیں گے
مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے ہندوستان سمیت اپنے تمام دوست ممالک کو بڑی راحت دی ہے۔ اب ایران کے دوست ممالک کے بحری جہاز آبنائے ہرمزکے ذریعے آزادانہ طور پرآمد و رفت کرسکیں گے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ان کا ملک اب دوست ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ ان ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین، روس، عراق اور پاکستان کا نام بھی لیا گیا ہے۔ایران کے تازہ فیصلے کا مطلب ہے کہ ہندوستانی جہازوں کو اس راستے سے محفوظ طریقے سے گزرنے دیا جائے گا۔ تاہم ایک شرط عائد کی گئی ہے کہ ان ممالک کے جہازوں کو پہلے ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ کرنا ہوگا اور آگے بڑھنے کی باقاعدہ اجازت لینی ہو گی۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھرمیں اس آبی گزرگاہ کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں کیونکہ یہی راستہ دنیا کے سب سے بڑے تیل سپلائی راستوں میں سے ایک ہے۔ اگر یہ بند ہو جاتا ہے تو ہندوستان جیسے ممالک کے لئے تیل کی قیمتیں اور سپلائی دونوں پر بری طرح اثر پڑتا ہے۔ایران کے اس فیصلے سے ہندوستان کو بڑی راحت ملی ہے کیونکہ ہندوستان کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے آتا ہے، اگر یہ راستہ بند رہتا تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید مہنگی ہو سکتی تھیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی ایران نے واضح کیا تھا کہ غیر دشمن بحری جہاز (یعنی جو ایران کے خلاف نہیں) اس راستے سے گزر سکتے ہیں لیکن اب یہ اصول مزید سخت کر دیا گیا ہے اب ہر جہاز کو پیشگی اجازت لینا ہوگی اور حفاظتی قوانین پر بھی عمل کرنا ہو گا۔دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی کے آگے جھکیں گے۔ سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی اس وقت کوئی براہ راست بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ تنازعات کا مستقل اور پائیدار حل چاہتا ہے تاہم تہران جنگ کے مکمل خاتمے اور ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ اسی دوران انہوں نے دوست ممالک کے جہازوں کےلئے اس راحت کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم اپنے دوست ممالک کی مدد کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ ان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے کبھی نہیںروکا گیا اور نہ اب روکا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اعلیٰ حکام نے امن کے حوالے سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ہی اسے ٹھکرانے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ وہ تجاویز بالکل یکطرفہ اور ایران مخالف تھیں۔ اسی لئے ہماری لیڈر شپ نے اسے مسترد کردیا۔