Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے مند ب پرحملہ کی دھمکی

Updated: March 27, 2026, 7:44 AM IST | New Delhi

ٹرمپ کو ایران کی کھری کھری ، اگر جزیرہ ٔ خرج پر حملہ کیا گیا تو آبنائے مندب کی ناکہ بندی کردی جائے گی ،یہ آبنائے ہرمز کی طرح ہی دنیا کا تیل اور گیس کی سپلائی اور تجارت کی لائف لائن ہے

The Strait of Hormuz in the upper red circle and the Strait of Mandab in the lower red circle.
اوپر کے سرخ دائرے میں آبنائے ہرمز اور نیچے کے سرخ دائرے میں آبنائے مندب

 ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی  جزیرہ ٔخرج پر زمینی کارروائی کی یا اس پر قبضے کی کوشش کی تو وہ عالمی تجارت کے دوسرے اہم بحری راستے آبنائے  المندب(باب المندب) کی ناکہ بندی کردے گا۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب  نے بالکل واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ  امریکہ کی کسی بھی عسکری کارروائی کے جواب میں ایران ایسے اقدامات کرے گا جن سے امریکی نقصان کی لاگت دوگنی ہو جائے گی۔ پاسداران انقلاب نے امریکہ کو وارننگ دی کہ وہ جزیرہ خرج پر کسی بھی کارروائی کے بارے میں غور بھی نہ کرے۔ اگر ایسا ہوا تواسے بہت زیادہ نقصان بھگتنا پڑے گا کیوں کہ ہم سب سے پہلے باب المندب کو بند کردیںگے ۔
اس آبنائے کی اہمیت 
 بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق باب المندب دنیا کی اہم ترین اسٹریٹیجک گزرگاہوں میں شامل ہے اور  ایران اسے مؤثر طریقے سے بلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیوں کہ اس کے حمایت یافتہ حوثی باغی اس آبنائے کے بہت سے راستوں پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ویسے بھی یہ آبنائے، ہرمز کی طرح ہی بہت پتلی سی دراڑ ہے۔ اس کے سب سےچھوٹے پوائنٹ پر یہ محض ۲۹؍ کلومیٹر ہی وسیع ہے۔ اس سےاندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اگر ایران اسے بھی ہرمز کی طرح بلاک کردے گا تو پوری دنیا کی تجارت پٹری سے اتر جائے گی۔ 
عالمی تجارت متاثر ہو گی 
  رپورٹس کے مطابق آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملاتی ہے جہاں سے ہر سال تقریباً ایک ٹریلین ڈالرز مالیت کی عالمی تجارت  ہوتی ہے ۔ اس راستے میں رکاوٹ عالمی سپلائی چین اور تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یمن میں موجود ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اس بحری گزرگاہ میں کارروائیوں میں ایران کی مدد کرے گا۔ ماضی میں حوثی جنگجو بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے کر چکے ہیں کیوں کہ یہ آبنائے نہر سوئز سے بھی جاکر ملتی ہے۔  اس لحاظ سے یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان سمندری لائف لائن ہے۔ 
امریکہ اپنے فوجیوں کو بڑھا رہا ہے
  ادھر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور تقریباًتین ہزار فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی تیاری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم امریکی صدر نے فوری زمینی حملے کے منصوبے کی تصدیق نہیں کی۔ واضح رہے کہ  خرج جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور ملک کی تقریباً۹۰؍ فیصد خام تیل ترسیل اسی جزیرے سے ہوتی ہے، اس لیے اس پر کسی بھی حملے کو ایران اپنی معیشت پر ضرب قرار دیتا ہے۔
امریکہ نے ۵؍ دن کا وقفہ لیا ہے
 یاد رہے کہ امریکہ نے اس سے قبل جزیرہ خرج پر حملےکا اعلان کیا تھا لیکن اس کے بعد اچانک ۵؍ دن کے وقفے کا اعلان کردیا جسے امریکہ کی چال کہا جارہا ہے کیوںکہ وہ اس سے قبل بھی ایسی حرکتیںکرچکا ہے ۔ اس وقفے کے دوران  امریکہ نے اپنے فوجیوں  اور نیوی جوانوں کی تعداد بڑھائی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK