Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوجیوں کا ورک فرام ہوم، خلیجی اڈے شدید متاثر

Updated: March 26, 2026, 10:08 PM IST | Abu Dhabi

ایران جنگ کے اثرات اب غیر روایتی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں سے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد کچھ امریکی اہلکار ہوٹلوں اور دور دراز مقامات سے کام کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اسی دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا ہے، جبکہ ٹرمپ کے مجوزہ دورے پر بھی جنگ کے اثرات پڑ رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱) ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوجی ہوٹلوں اور دور دراز مقامات سے کام کرنے لگے
رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد کچھ امریکی فوجی اہلکار اب ہوٹلوں اور دور دراز مقامات سے کام کر رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ’’بعض اڈے اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ معمول کی سرگرمیاں وہاں ممکن نہیں رہیں۔‘‘ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوجیوں کو متبادل مقامات پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ آپریشن جاری رکھا جا سکے۔ امریکی حکام نے کہا کہ ’’ہم اپنے اہلکاروں کی حفاظت کو ترجیح دے رہے ہیں اور متبادل انتظامات کئے جا رہے ہیں۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے حملوں نے خلیجی خطے میں فوجی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ یہ صورتحال جنگ کے غیر روایتی اثرات کو ظاہر کرتی ہے، جہاں روایتی جنگی میدان کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میزائل حملوں کے ساتھ ایران کی امریکہ اور اسرائیل پر طنزیہ میمز کی یلغار

(۲) ایران کا دعویٰ، آبنائے ہرمز پر آمدورفت کا مکمل کنٹرول
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی آمدورفت پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہرمز ہماری نگرانی میں ہے اور ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سیکوریٹی کے پیش نظر اقدامات مزید سخت کئے گئے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہرمز عالمی توانائی سپلائی کیلئے انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس دعوے کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز بحران سے تیل متاثر، کویت نے پیداوار کم کی، جنوبی کوریا ہنگامی موڈ میں

(۳) ایران جنگ کے باعث ٹرمپ کے مجوزہ دورے پر اثرات
رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے باعث امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ۱۴؍ اور ۱۵؍ مئی کے مجوزہ دورے پر اثرات پڑ رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ’’سیکوریٹی صورتحال کے پیش نظر دورے کے شیڈول کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ کے اثرات عالمی سیاسی سرگرمیوں تک پہنچ چکے ہیں۔ حکام نے کہا کہ حتمی فیصلہ سیکوریٹی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سیاسی نظام کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK